30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دستہ دینِ مصطفوی کی خاطر رواں دواں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں، نہ تو ان کے پاس بہت زیادہ اسلحہ ہے اور نہ ہی سواریوں کی کثرت، اپنے گھروں سے ہزار کلو میٹر سے بھی زیادہ دوری پر جانوں کے نذرانے راہِ خدا میں دینے کے لئے بے تاب چلتے جارہے ہیں۔ ایک ایک مجاہد کے سامنے 66 دشمن اسلحہ سے لیس ہو کر مقابلے کیلئے تیار ہیں لیکن اللہ کے شیر اُسی پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ پھر ایک سفیر کے شہید کئے جانے پر دنیا کی ظاہری سپرپاور کے ساتھ ٹکرانا اس بات کا درس تھا کہ بہادری اور دلیری تعداد سے نہیں نظریات اور قوانین سے ہوتی ہے۔
جنگ کی روداد:
مسلمانوں کے کمانڈر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جب دو لاکھ کا لشکر دیکھا تو اس پر مجلسِ مشاورت قائم فرمائی۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارا مقصد فتح یا مال نہیں ، بلکہ ہمارا تو مقصود ہی شہادت ہے۔ یہ باتیں سن کر لوگ کہنے لگے: عبد اللہ نے سچ کہا۔ پھر حضرت زید نے آگے بڑھ کر ”موتہ“1کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اور لشکر کو ترتیب دیا۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے کُفّار کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے جارحانہ حملہ شروع کردیا۔ حضرت زید یہ منظر دیکھ کر گھوڑے سے اتر کر میدانِ جنگ میں کُود پڑے، ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی نہایت جوش و خروش کے ساتھ لڑنا شروع کردیا، کافروں نے آپ پر نیزوں اور بَرچھیوں کی برسات کردی یوں آپ جوانمردی سے
1مَوتہ موجودہ اُردن (Jordan)کے شہر کرک (Kerak)اور دریائے اردن کے درمیان کا علاقہ ہے۔ اردن مغربی ایشیا (Western Asia)کا ملک ہے جس کا دارالحکومت عمان (Amman)ہے۔ اُس وقت یہاں شامیوں کی حکومت تھی۔ یہ پہلا موقع تھا جس میں مسلمانوں کا لشکر مدینہ شریف سے اتنا دور جنگ کیلئے گیا۔ اردن کا مدینہ شریف سے کم از کم فاصلہ ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع