30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ واٰلہٖ وسلم نے اعلان کردیا کہ جو لوگ پچھلے سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب چلیں۔ شہید ہونے والوں کے سوا باقی تمام صحابہ آپ کے ساتھ چلے اور سب نے آپ کے ساتھ عمرے کی یہ عظیم سعادت حاصل کی۔اسی سفر سے واپسی پر آپ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔1
غزوۂ موتہ کے اسباب:
سن آٹھ ہجری کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ”غزوۂ موتہ“ ہے۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر قیصرِ روم کے نام ایک خط دے کر روانہ فرمایا تھا۔ راستے میں قیصر کے ایک امیر شُرَحْبِیل بن عمرو غسانی نے حضرت حارث کو روک کر پوچھا:کیا تم محمد ( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) کے قاصد ہو؟ انہوں نے ”ہاں“ میں جواب دیا تو اس بدبخت نے انہیں رسیوں میں باندھ کر بڑی بےدردی سے شہیدکردیا۔ اس حادثے سے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو صدمہ پہنچا۔ آپ نے تین ہزار مسلمانوں کا لشکر تیار فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے سفید رنگ کا جھنڈا باندھ کر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فوج کا سپہ سالار بنا کر روانہ فرمایا اور فرمادیا تھا کہ ان کی شہادت ہوجائے تو قیادت حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کریں گے اور پھر ان کے بعد حضرت عبدُ اللہ بن رَواحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد جسے مسلمان منتخب کرلیں۔2
حیرت انگیز منظر:
چشمِ فلک کیلئے حیرت انگیز منظر ہے کہ دو لاکھ دشمن کے مقابلے میں 3ہزار کا مٹھی بھر
1 شرح الزرقانی، 3/328 ،329 ملخصاً
2سیرت حلبیہ، 3/96، مواہب لدنیہ،1/301
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع