30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
”غَطفان“ عرب کا ایک بہت ہی طاقتور اور جنگ جُو قبیلہ تھا، لہٰذا ان دونوں کے ملنے سے زبردست فوج تیار ہوگئی۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جب علم ہوا تو آپ سولہ سو صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کا لشکر لے کر خیبر روانہ ہوئے۔ آپ نے غطفان ویہود کے درمیان وادیٔ رجیع میں قیام فرمایا تاکہ قبیلۂ غطفان والے یہودیوں کی مدد کو نہ پہنچ سکیں۔1
جنگ کی روداد:
یہودیوں کے پاس تقریباً بیس ہزار فوج تھی۔ خیبر کے قلعوں میں سب سے مضبوط قلعہ ”قموص“ تھا، اس کا سردار مَرحَب پہلوان تھا جو عرب میں ایک ہزار سُواروں کے برابر مانا جاتا تھا۔2 سب سے پہلے قلعہ” ناعِم“ پر لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی میں حضرت محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، لیکن قلعہ آخرِ کار فتح ہوگیا۔3 خیبر کے دوسرے قلعے بھی آسانی سے فتح ہوئے لیکن قلعۂ قَموص میں بہت مشکل پیش آئی۔ ”مرحب“ پہلوان خود اس قلعے کی حفاظت کے لئے موجود تھا، یہ قلعہ کئی دن تک فتح نہ ہوسکا۔ بالآخر مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت مولا علی کَرَّم اللہ وجہہ الکریم کو پرچم عطا فرما کر اس قلعے کی طرف بھیجا اور بالآخر مولا مشکل کشا، حضرت شیرِ خدا کے ہاتھوں قلعہ فتح ہوگیا۔4 یوں سن 7 ہجری محرم الحرام سے شروع ہونے والے اس معرکے کا اختتام صفر شریف میں ہوا۔5 غزوۂ خیبر میں 93 یہودی مارے گئےجبکہ 15 مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔6
1 دلائل النبوۃ للبیہقی، 4/197- مواہب لدنیۃ، 1/281،282 ملتقطا
2 سیرتِ مصطفیٰ، ص383 ،384
3 تفسیربغوی،پ26،الفتح،تحت الآیۃ:20، 4/177ملتقطاً
4 سنن کبری للنسائی، 5/109 ،110، حدیث:8403
5 فتح الباری ، 8/395
6 شرح الزرقانی علی المواہب، 3/264
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع