30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سلاطین کے نام دعوتِ اسلام:
”صلحِ حدیبیہ“ کی شرائط میں سے ایک یہ بھی تھی کہ فریقین دس سال تک کوئی جنگ نہیں کریں گے۔ اس شرط کا مسلمانوں کو خصوصی فائدہ یہ ہوا کہ ہر طرف امن و سکون کی فضا قائم ہو گئی۔ یوں روز روز کی جنگوں اور کافروں سے ہونے والی جھڑپوں کا خاتمہ ہوگیا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرصت کے ان لمحات کو غنیمت جانا اور پوری توجہ کے ساتھ اسلام کی دعوت دینا شروع کر دی۔ قریب کے علاقے تو پہلے ہی اسلام کی رم جھم سے چمکنے لگے تھے اب آپ نے دور دراز کے قبیلوں، شہنشاہوں اور بادشاہوں کو دین کی دعوت دینے کیلئے قاصد اور مکتوبات بھیجنے کا ارادہ فرمایا۔ مکتوبات بھیجنے پر آپ کو یہ تجویز دی گئی کہ بادشاہ ایسے کسی مکتوب پر توجہ نہیں دیتے جس پر مہر نہ ہو، اس لیے آپ نے اس زمانے کے اعتبار سے چاندی کی انگوٹھی پر مہرکندہ کروائی۔ اس کے نگینے پر بالترتیب اوپر سے اللہ ، رسول، محمد کے الفاظ کھدوائے گئے۔ اس مہر کے ساتھ آپ نے سن چھ ہجری میں مختلف بادشاہوں کی طرف قاصدوں کے ذریعےمکتوبات روانہ فرمائے۔جن کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
قاصد کا نام/شہر/ ملک/بادشاہ / امیر /رویہ و نتیجہ
حضرت دحیہ کلبی /یت المقدس/ہرقل (قیصر روم)/اسلام کی حقانیت کا قائل ہوا مگر سلطنت کی لالچ میں کلمہ پڑھنے سے محروم رہا۔1
حضرت عبد اللہ بن حذافہ/طیسفون/کسریٰ (خسرو پرویز)/خط کو پھاڑ ڈالا، اس کے بیٹے نے اسے قتل کر ڈالا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔2
1 بخاری، 1/12، حدیث:7ملخصاً
2 سبل الہدیٰ والرشاد، 11/362ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع