30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بہتر کوئی نہ جانتا تھا۔ آپ نے اپنی قربانی کی، بال ترشوائے اور واپسی کیلئے تیار ہوگئے۔ یوں صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان بھی تیار ہو گئے۔ 1
صلح کی حکمتیں:
معاہد ےکی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں مگر اپنے اندر دُور رَس نتائج رکھتی تھیں۔ آنے والے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ صلح بعد میں ہونے والی فتوحات کی کنجی ثابت ہوئی۔ اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ظاہر کی نظر میں اسلام کے لئے دَبتی ہوئی بات تھی اور حقیقت میں ایک بڑی نمایاں فتح تھی جسے اللہ پاک نے اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱)2 فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اسلام میں حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح نہیں مگرلوگوں کی عقلیں اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے معاملے تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔3
سورۂ فتح کی آیت نمبر 25کی تفسیر کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:یہ آیت مسلمانوں کی تسکین کے لئے نازل فرمائی کہ اِس سال (مسلمانو!)تمہیں داخلِ مکّہ نہ ہونے دینے میں کئی حکمتیں تھیں: مکے میں بہت سے مرد وعورت خفیہ طور پر مسلمان ہیں،کفار پر قہرڈھاتے ہوئے لا علمی میں تم انہیں بھی روند دیتے۔ نیز وہاں وہ لوگ بھی ہیں جوابھی کافر ہیں مگر عن قریب اللہ پاک انہیں اپنی رَحْمت میں لے گا،اسلام دے گا، ان کا قتل منظور نہیں ،ان وجوہات سے کفّارِ مکّہ پر سے قتل وقہر موقوف رکھا گیا۔4
1 مغازی للواقدی، ص 607 تا608ملخصاً-بخاری،2/223، حدیث:2731ملخصاً
2 ترجمہ کنز الایمان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرمادی۔(پ26،فتح:1)
3 سیرت حلبیہ ، 3/41
4 فتاوی رضویہ، 30/381ماخوذاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع