30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیعتُ الرضوان:
حضرت عثمانِ غنی مکہ پہنچے اور قریش کے سرداروں کو یقین دلانے لگے،لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے، انہوں نے حضرت عثمان کو پیش کش کی کہ آپ خود طواف کرلیں! دوسروں کی بات مت کریں! مگر حضرت عثمان نے فرمایا: اللہ کی قسم!میں ہرگز اس گھر کا طواف نہ کروں گا جب تک کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس کا طواف نہ فرما لیں۔ بات بڑھ گئی اور ان کا قیام وہاں طول پکڑ گیا۔ ایسے میں یہ افواہ سرگرم ہوگئی کہ حضرت عثمان کو قریش نے شہید کر دیا ہے۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔ یہ فرماکر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان سے فرمایا کہ تم سب لوگ میرے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کرو کہ آخری دم تک تم لوگ میرے وفادار رہوگے۔ تمام صحابہ نے یہ عہد لے کر آپ کی بیعت کی۔ یہی وہ بیعت ہے جس کا نام تاریخِ اسلام میں”بیعتُ الرضوان“ہے۔ اس درخت اور اس کے نیچے ہونے والی بیعت کا ذکر قرآنِ پاک میں دو مقامات سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 7 اور سورۂ فتح کی کئی آیات میں آیا ہے۔ یہ بیعت ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمانِ غنی کی شہادت کی خبر غلط تھی، وہ حیات تھے اور ٹھیک تھے۔1
صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ:
کافروں تک جب یہ خبر پہنچی کہ محض افواہ کی بنیاد پر مسلمانوں نے جان کی بازی لگانے کا عہد کر لیا ہے تو وہ بڑے پریشان ہوئے، اب وہ اس مسئلے کا سنجیدہ حل نکالنے کیلئے آمادہ ہو گئے۔ یوں انہوں نے خطیبِ قریش سہیل بن عَمَرو قریشی کو بھیجا، جس نے حاضرِ خدمت
1 دلائل ا لنبوۃ للبیہقی، 4/133ملتقطاًو ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع