30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علقمہ اور مِکْرَز کو بھیجا۔ کافروں کا سردرد یہ بھی تھا کہ ان کا جو بھی نمائندہ آتا مسلمانوں کا ہمنوا بن جاتا اور واپسی پر کافروں کو انہیں عمرے کی اجازت دینے کی سفار ش کر دیتا، یوں وہ خوب سٹپٹاتے۔ اب ان کی ایک پریشانی یہ بھی تھی وہ کھلم کھلا آپ کے لشکر پر حملہ نہیں کر سکتے تھےکہ مسلمان حرم کی حد کے بالکل پاس تھے، نیز اگر وہ ایسا کر دیتے تو پورے عرب میں شور مچ جاتا کہ قریش کعبے کے متولی تو تھے ہی اب وہ اس کے مالک اور ٹھیکیدار بن گئے ہیں۔ جسے چاہتے ہیں عمرے کی اجازت دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں، آج ان کا یہ سلوک مسلمانوں سے ہے کل کو کسی اور کے ساتھ بھی ہوگا۔ اس لیے انہوں نے مسلمانوں کو روکنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلیں کہ کسی طرح یہ لوگ واپس چلے جائیں اور عمرہ نہ کریں۔لیکن مسلمان عمرہ کیے بغیر جانے پر تیار نہ تھے۔
حضرت عثمان بطورِ سفیر:
جب کافروں کے سفیروں کی سفارت کاری کسی کام نہ آئی تو حضور علیہ الصّلوٰۃُ والسّلام نے ان کے پاس اپنا سفیربھیجنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپ نے حضرت عمر کو اس کام کیلئے طلب فرمایا۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے عرض کی کہ قریش میری جان کے دشمن ہیں! وہ مجھے ہرگز نہیں چھوڑیں گے، اس کام کیلئے آپ حضرت عثمانِ غنی کو بھیجیں، ان کے وہاں تعلقات بھی ہیں اور ان کے خاندان کا اثر و رسوخ بھی ہے، پھر وہ خود بھی نرم مزاج ہیں تو کامیابی کا امکان زیادہ نظر آتا ہے۔ حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام نے یہ تجویز پسند فرمائی اور حضرت عثمان کو دس افراد کے ساتھ مکہ بھیجا تاکہ وہ کافروں کو قائل کریں کہ مسلمانوں کو عمرے کی اجازت دی جائے۔1
1 مواہب لدنیۃ ، 3/277ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع