30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہوں نے لشکر بھیجا جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ مکہ سے باہر مسلمانوں کو بزورِ شمشیر روکے۔ آپ نے یہ سنا تو صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان سے مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تجویز پر عمل ہوا کہ جنگ سے بچنے کی بھرپور کوشش کی جائے، لیکن اگر کوئی اللہ کے گھر جانے سے ہمیں تلوار کے زور پر روکے تو اس کا مقابلہ کر لیا جائے۔ 1 حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام نے پوچھا: کون ہے جو ہمیں عام راستے سے ہٹ کر حدیبیہ تک لے جائے؟ یہ اس لیے تھا کہ شاہراۂ ِ عام پر کافروں کے لشکر سے جنگ کا اندیشہ تھا۔ یوں مسلمان عام راستے کو چھوڑتے ہوئے بڑے دشوارگزار راستوں سے ہو کر”حدیبیہ“کے مقام پر پہنچ گئے۔ وہاں جا کر آپ کی اونٹنی ”قصوا“ بیٹھ گئی اور ایسا بیٹھی کہ اٹھائے نہ اٹھتی تھی۔ اس پر آپ نے فرمایا: قصوا تھکی نہیں ہےاور نہ ہی اس کی یہ عادت ہےکہ تھک کر بیٹھے، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ یعنی درحقیقت اس کو اسی ذات نے روکا ہے جس نے اصحابِ فیل کے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ چونکہ آپ غیبی اشارہ سمجھ گئے تھے اس لیے اپنے ساتھ صحابہ کو گواہ بناتے ہوئے ارشاد فرمایا: اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں کفارِ مکہ کی ہر وہ شرط مان لوں گا جس میں حُرماتِ الٰہی کی اہانت نہ ہو۔2 آپ نے وہیں پر غلاموں کو خیمہ زن ہونےکا حکم فرمایا۔
سفارتی کوششیں:
کافروں کو جب پتہ چلا کہ مسلمان حدیبیہ پہنچ گئے ہیں تو وہ حیران و ششدر رہ گئے کہ ان کا لشکر تو انتظار کرتا رہ گیا جبکہ مسلمان ان کے سر پر پہنچ گئے۔ اب انہوں نے مسلمانوں کے حالات دیکھنے کیلئے بالترتیب بُدَیْل بن وَرْقَاء خُزَاعِی، عُرْوَہ بن مسعودثَقَفِی اورحُلَیْس بن
1 بخاری، 3/74،حدیث:4179،4178ملخصاً
2 بخاری،2/223، حدیث:2731 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع