30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو زیر نہیں کر پایا تھا یوں مسلمانوں کی سیاسی و عسکری قوت کا پورے عرب میں شہرہ ہوگیا تھا۔ اب صحابۂ کرام کی خواہش تھی کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ انہیں اس گھر کی بھی زیارت نصیب ہو جس کی طرف پانچوں وقت رُخ کر کے وہ پیشانیوں کو لذتِ بندگی سے سرشار کرتے تھے۔ حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام انہیں جلد اِس وقت کے آنے کی خوش خبری سناتے۔ آخر کار ایک دن آپ نے اپنے غلاموں کو یہ نوید سنائی کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ہم سب امن و سلامتی کے ساتھ حرمِ کعبہ میں داخل ہوئے ہیں۔ چونکہ نبی کا خواب بھی وحیِ الٰہی کی ایک صورت ہے اس لیے غلاموں نے اندازہ لگا لیا کہ اب ہماری دلی مراد بر آئے گی۔ آپ نے عمرہ کیلئے تیاری شروع فرما دی،آپ کی دیکھا دیکھی صحابہ کی بھی ایک تعدادنے تیاریاں شروع کر دیں۔ ذوالقعدۃ سن 6 ہجری(628عیسوی) میں آپ1400 صحابہ کے ساتھ عمرے کے ارادے سے نکلے،مسجدِ ذوالحلیفہ1 پر پہنچے تو احرام باندھا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر قربانی کے اونٹ ساتھ لیے اور اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر تلبیہ کی رُوح پَروَر صداؤں کے سائے میں مکہ کی طرف چل پڑے۔ 2
جنگ سے احتیاط:
مسلمان چونکہ عمرے کے ارادے سے نکلے تھے تو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خصوصی خیال رکھا کہ کافر اس لشکر کو جنگی مہم نہ سمجھیں۔ لیکن کافر سب کچھ سمجھنے کے باوجود عمرے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھے۔ کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ پورے عرب میں مشہور ہو جائے گا کہ مسلمان زبردستی عمرہ کر کے چلے گئے اور کافر مغلوب ہو گئے۔ اس لیے
1 آج کل اس کا نام ابیارِ علی(Abyar Ali) ہے، مسجدِ نبوی سے یہاں کا بائی روڈ فاصلہ تقریباً 14 کلومیٹر ہے۔
2 مغازی للواقدی،ص574ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع