30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدینے کے افق پر چھا جانے والا کافروں کا طوفان اللہ پاک کے بھیجے ہوئے طوفان سے شکست کھا کر چلا گیا۔ ان کے جانے کے بعد مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے غلاموں کو خوش خبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اَلآنَ نَغْزُوْهُمْ وَلَا يَغْزُوْنَنَا نَحْنُ نَسِيْرُ اِلَيْهِمْ یعنی اب ہم ان پر حملہ کریں گے وہ نہیں اور ہم ان کی طرف چل کر فوج کشی کریں گے۔1 ایسا ہی ہوا کہ پھر کافر کبھی بھی مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہوئے۔ لشکرِ اسلام نے ہی پیش قدمی کی یہاں تک کہ اللہ پاک نے مکہ کی فتح مسلمانوں کی جھولی میں ڈال دی۔ 2
جنگ کے نتائج:
اس جنگ میں مسلمانوں کا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا، کُل چھ مسلمان شہادت سے سرفرازہوئے، مگر انصار کی ایک بہت بڑی شخصیت، قبیلۂ اوس کے سردار یعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ایک تیر سے زخمی ہو گئے اور پھر شفا یاب نہ ہو سکے۔ مشرک مقتولین کی تعداد4 تھی۔ 3
غزوۂ بنو قریظہ:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اتحادی افواج کے شکست کھا کر چلے جانے کے بعد بنوقریظہ کی طرف توجہ فرمائی۔ حکم ہوا کہ ہتھیار نہ اتارے جائیں پہلے بنوقریظہ کے یہودیوں سے دودو ہاتھ ہو جائیں۔ یہ وہ یہودی تھےجنہوں نے عین جنگ کے وقت کالک منہ پر
1 بخاری،3/54، حدیث:4110
2 شرح الزرقانی علی المواہب، 3/ 91
3 شرح الزرقانی علی المواہب، 3/ 43- السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ص 403 تا 404
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع