30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سامنا، مدینے میں موجود یہودیوں کا معاہدہ توڑ کر جنگ کی کوشش کرنا وغیرہ وہ مسائل تھے جن کا سامنا انہیں کرنا پڑا، لیکن اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قیادت میں مسلمان ثابت قدم رہے کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ñ1Ñ
جنگ کی صور ت حال:
اس زمانے میں خندق کا جنگ میں استعمال عربوں کیلئے نیا تجربہ تھا۔ کافروں کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر کافر حیران رہ گئے۔ بعض کفار نے تنگ جگہ سے خندق عبور کرنے کی کوشش کی، ان میں سے کچھ کامیاب بھی ہوئے مگر خندق کے اِس پار اللہ کے شیروں کے ہاتھوں انجام کو پہنچے۔ دورانِ محاصرہ دونوں جانب سے ہونے والی تیر اندازی اور اس طرح کی معمولی جھڑپوں کے علاوہ باقاعدہ جنگ نہ ہوسکی۔ سخت موسم، طویل محاصرے، راشن کی کمی اور یہودیوں کی دغا بازی جیسی خبروں سے کافروں کے لشکر میں خوب انتشارپھیلا۔ ایسے میں اللہ پاک کی طرف سے اہلِ ایمان کی نصرت و مدد کیلئے صرف کافروں کے لشکر پر ایسی سخت آندھی آئی کہ دیگیں چولہوں سے الٹ گئیں،خیمے اکھڑ گئے، اونٹ اور جانور بدک گئے، لشکر کی مشعلیں بجھ گئیں، ہر طرف اندھیرا چھا گیا، رات پہلے ہی ٹھنڈی تھی، اوپر سے یخ بستہ ہواؤں نے کافروں کی چولیں ہلادیں۔ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ سوائے بھاگنے کے انہیں کچھ نہ سُوجھا، لہٰذا امیرِ لشکر نے یہ کہتے ہوئے اپنی فوج کو واپس چلنے کا کہا کہ بخدا! جانور ہلاک ہو رہے ہیں، یہودی ہم سے دغا کرچکے ہیں، یہ آندھی ہمارا امتحان لے رہی ہے، نہ ہانڈیاں چولہوں پر ٹِک رہی ہیں، نہ ہم آگ جلاسکتے ہیں، خیمے اکھڑ رہے ہیں، نئے بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لہٰذا ہمارا محاصرہ بےکار کی
Œ1ƒ شرح الزرقانی علی المواہب، 3/35ملخصاً- السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ص390
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع