30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خندق کی تیاری:
8ذوالقعدہ سن 5 ہجری کو حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام مدینہ میں حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بناکر نکلے اور سلع پہاڑ1 کے دامن میں 3 ہزار انصار و مہاجرین کی افواج کے ساتھ پڑاؤ ڈالا، سلع پہاڑ کو پشت پہ رکھ کر تیزی سے خندق کا کام مکمل کیا گیا جس میں آپ بھی بنفس نفیس شامل تھے۔ ایک قول کے مطابق 6 دنوں میں خندق کا کام مکمل کرلیا گیا۔ خندق 300 میٹر لمبی اور 9 میٹر چوڑی تھی جبکہ خندق کی گہرائی 5 میٹر تھی۔اب نقشہ یہ ہوگیا کہ پہاڑ آپ کی پشت پر تھا، اس کے دامن میں اسلامی لشکر تھا، اس کےسامنے خندق تھی، خندق کے پار کافروں کا لشکر ڈیرے ڈالے ہوئے تھا۔2
آزمائش در آزمائش:
مدینے میں آباد یہود کا قبیلہ بنو قریظہ مسلمانوں کا حلیف تھا، یہ قبیلہ میثاقِ مدینہ کا پابند تھا لیکن دورانِ جنگ بنو نضیر کے سردار حیی بن اَخطب نے اصرار کر کے اس قبیلے کو بھی ساتھ ملا لیا یوں عین جنگ کے وقت یہودیوں نے روایت برقرار رکھتے ہوئے غداری اور بدعہدی کی۔ اس میں شک نہیں کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو شدید آزمائش ہوئی۔ سرد موسم ، کھانے پینے کی کمی، مدینہ پاک کی پتھریلی زمین میں خندق کھودنا، دس ہزار کے لشکر کا
1 یہ پہاڑ مسجد نبوی کی مغربی سمت میں تقریباً 500 میٹر کی دوری پر واقع ہے، اس کا طول 1000 میٹر اور عرض 300 سے 800 میٹر کے درمیان ہے، اس کی بلندی 80 میٹر ہے۔ یہ تاریخی پہاڑ ہے۔ اس کے مغربی دامن میں غزوۂ خندق ہوئی، اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اور صحابہ کرام کے لیے خیمے نصب ہوئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دورِامارت میں ان خیموں کی جگہ سات مساجد تعمیر کروادی تھیں، یہ مسجدیں’’سبعہ مساجد‘‘ کہلاتی ہیں۔ اب یہاں صرف چار مساجد رہ گئی ہیں۔
2 سیرت حلبیہ، 2/ 421 ، 422ملتقطاً-شرح الزرقانی علی المواہب،3/33 تا 35 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع