30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے عرب قبائل کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلانے کے ساتھ جنگ پر اکسایا۔ یہودیوں کے وفود نے عرب قبائل میں جابجا دورے کئے اور کسی کے انتقام کی آگ کو بھڑکا کر، کسی کو لالچ کے جال میں الجھا کر اور کسی کو روشن مستقبل کے دل فریب اور حسین خواب دکھا کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ یوں کفارِ قریش، بنوغطفان اور بنوسلیم سمیت مختلف کافر اور یہودی جنگ کیلئے تیار ہو گئے۔ چونکہ یہ سب الگ الگ گروہ تھے اسی وجہ سے اس جنگ کا ایک نام ”غزوۂ احزاب1 “ بھی ہے۔یہ پہلا موقع تھا جب عرب کے غیر مسلموں کی ایک بہت بڑی تعداد جنہیں گویا پورے عرب کی تائید حاصل تھی، یہ سب ایک ہوکر مدینے پر دھاوا بولنے کے ارادے سے منظم طور پر نکلے۔ ایک قول ہے کہ انکی فوج کی تعداد 10 ہزار تھی۔ 2
مسلمانوں کی حکمتِ عملی:
مدینہ شریف میں جب کافروں کی اس عظیم لشکر کشی کی خبر پہنچی تو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کوجمع فرما کر مشورہ فرمایا کہ دفاع کیسے کیا جائے؟ مدینہ کے تین اطراف کھجوروں کے جھنڈ، پہاڑ اور مکانات تھے، ایک طرف کا علاقہ کھلا ہوا تھا۔ اسی طرف سے حملے کا اندیشہ بلکہ یقین تھا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: یارسولَ اللہ ! فارس میں جب ہمارا محاصرہ کیا جاتا تھا تو ہم خندق کھودتے تھے۔ آپ نے حضرت سلمان کی اس تجویز کو قبول فرمایا اور کھلی طرف خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ اسی وجہ سے یہ جنگ”غزوۂ خندق“ کے نام سے مشہور ہے۔ 3
1 عربی میں حِزْبٌ کا معنیٰ ہے: ایک جماعت۔ اس کی جمع اَحْزابٌ کا معنی ہے: کئی جماعتیں۔
2 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، ص 288-شرح الزرقانی علی المواہب، 3/17 تا 22 ملخصاً
3 شرح الزرقانی علی المواہب،3/17
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع