30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے تھے تاکہ لشکر کی گری پڑی چیزیں اٹھاتے چلیں۔ انہوں نے دور سے حضرت عائشہ کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا۔ انہیں مردہ سمجھ کر ” اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن “ پڑھا، ان کی آواز سے ام المؤمنین چونک گئیں اور اٹھ گئیں۔ حضرت صفوان نے فوراً انہیں اپنے اونٹ پر سوار کر لیا اور خود اونٹ کی مہار تھام کر پیدل چلتے ہوئے اگلی منزل پر رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ اس بات کو بنیاد بناتے ہوئے عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں نے حضرت عائشہ پر بہتان باندھا اور اس کا خوب پروپیگنڈا کیا۔1 یہاں تک کہ اللہ پاک نے حضرت عائشہ کی برأت و طہارت میں سورۂ نور کا مکمل ایک رکوع نازل فرمایا اور بہتان لگانے والوں پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا۔
غزوۂ خندق کے اسباب:
سن پانچ ہجری (627عیسوی)کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ”غزوۂ خندق“ ہے۔ اب تک کے چنیدہ غزوات و سرایا سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ عرب کے کافر مسلمانوں سے بغض رکھتے تھے۔ جو بھی موقع دیکھتا مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کا جانی و مالی نقصان کرنے سے نہ چوکتا تھا۔ لیکن صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کی جماعت اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حکم پر ہمیشہ لبیک کہتی اور فوراً سے پیشتر کسی کے پیشگی حملے کا جواب دیتی اور کسی کے خلاف دفاع کا فریضہ سر انجام دیتی تھی۔ جب بنونضیر کے یہودی مدینے سے جِلا وطن کئے گئے تو انہوں نے بدلہ لینے کیلئے شیطانی چال چلی۔ ان کا منصوبہ تھا کہ عرب کے تمام مشرک قبائل کو ملا کر پوری جمعیت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کیا جائے تب ہی یہ قابو آئیں گے۔ ان یہودیوں
1 بخاری، 3 /61،حدیث:4141 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع