30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب کہنے لگے: جس خاندان میں رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے شادی کر لی اس خاندان کے کسی آدمی کو ہم لونڈی غلام نہیں بنا سکتے۔ یوں اس بابرکت نکاح کی بدولت کئی گھرانے غلامی کے طوق سے آزاد ہو گئے۔1 اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صحابہ عظمتوں اور نسبتوں کا کتنا احترام کرتے تھے۔
واقعۂ اِفک:
اسلامی لشکر میں پہلی دفعہ منافقین بھی شامل تھے اور ان کے شامل ہونے کی وجہ مالِ غنیمت کا لالچ تھا۔ جن میں سرِ فہرست ان کا سردار عبد اللہ بن ابی تھا، اس نے اپنے چیلوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کی خوب کوششیں کی مگر اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی برکت سے ہر دفعہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس کا منصوبہ ناکام ہوا۔ آخر میں اس نے ایک بار پھر اپنے منہ پر کالک ملی اور ایک واقعے کو بنیاد بنا کر خوب پروپیگنڈا کیا۔ ہوا یہ کہ سفر سے واپسی کے وقت ایک منزل پر ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حاجت کیلئے ہَوْدَج سے اتر کر تشریف لے گئیں، واپس آئیں تو پتہ چلا کہ ان کا ہار ٹوٹ کر گر گیا ہے، یوں وہ اسے ڈھونڈنے چلی گئیں۔ قافلے کے کوچ کرنے کا وقت آیا تو ان کا ہودج اٹھانے والوں نے سمجھا کہ ام المؤمنین اندر بیٹھ چکی ہیں، حالانکہ ایسا نہ تھا۔ انہوں نے حسبِ عادت ہَوْدَج اٹھایا اور اونٹ پر باندھ دیا، قافلہ منزل کی طرف چل پڑا۔ جب ام المؤمنین ہار ڈھونڈ کر واپس آئیں تو قافلہ نہیں تھا، یوں یہ وہیں چادر اوڑھ کر لیٹ گئیں۔ اتنے میں حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ آئے، وہ ہمیشہ لشکر کے پیچھے چلا
1 شرح الزرقانی علی المواہب، 4 / 424 تا 426 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع