30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکلے۔ بدر پہنچ کر آپ نے قیام فرمایا کہ وہی مقامِ جنگ قرار پایا تھا۔ دوسری طرف سے کافروں کا لشکر ابوسفیان کی قیادت میں چلا مگر مکہ سے تھوڑا ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد ابوسفیان نے اپنے لشکر سے کہا: قحط بہت ہے، اس لیے یہ سال جنگ کیلئے مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ہم مناسب وقت پر مسلمانوں سے جنگ کریں گے۔ اس کے بعد یہ لشکر واپس چلا گیا۔ آپ نے آٹھ روز تک کافروں کے لشکر کا انتظار کیا مگر وہ نہ آئے۔ ان دنوں میں مسلمان وہاں تجارت کرتے رہے اور خوب نفع کمایا۔ کافروں کے لشکر سے مایوس ہو کر مسلمانوں نے اس شان سے واپسی کی راہ لی کہ ایک دفعہ پھر ہر طرف ان کا رعب اور دبدبہ بیٹھ چکا تھا۔ ماحول پر ان کی گرفت مضبوط ہو گئی تھی اور ہر طرف ان کے نام کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔ 1
شراب کی حرمت:
سن چار ہجری میں ہی شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا۔ پاکیزہ طبیعت اور ذوقِ سلیم کے مالک لوگ جاہلیت میں بھی شراب کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے لیکن اہلِ عرب کی بہت بڑی تعداد عقل و دانش کے چراغ گل کرنے والی شراب کی شیدائی تھی۔ یک دم سے شراب چھوڑ دینا ان کیلئے ایک مسئلہ بنتا، اس لیےحکیم و خبیر ربِّ کریم نے بتدریج اس کی ممانعت نازل فرمائی، سن چار ہجری میں اس کے حرام ہونے کا اعلان ہوا تو مدینہ شریف میں جہاں جہاں یہ آواز پہنچی وہاں وہاں چھلکتے جام رک گئے، ہونٹوں سے لگے پیالے دور ہو گئے، شراب کے برتن توڑ دیئے گئے اور مہنگی مہنگی شرابیں نالیوں کی نذرکر دی گئیں۔ یاد رہےکہ شراب کی حرمت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ علامہ زرقانی نے چار ہجری کے قول کو مستند قرار دیا ہے۔2
1 شرح الزرقانی علی المواہب، 2/ 535ملخصاً
2 مواہب لدنیہ، 1/234 ،235ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع