30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) وہ مال جسے مسلمان کافروں سے جنگ میں قہر و غلبے کے طور پر حاصل کریں اسے غنیمت کہتے ہیں۔1 اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول اور دیگر مصارف کیلئے ہوتا ہے۔جبکہ باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔
(2) وہ ما ل جو مسلمانوں کو کافروں سے لڑائی کے بغیر حاصل ہوجائے چاہے انہیں جلا وطن کر کے حاصل ہو یا صلح کے ساتھ،مالِ فَے کہلاتاہے ۔2 جزیہ، تاوان اور صلح کے بعد ملنے والا مال بھی اس قسم میں داخل ہے۔ اس کا حکم یہ ہےکہ یہ سب کا سب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی مرضی سےتقسیم فرمائیں گے، مجاہدین میں اس کا تقسیم ہونا ضروری نہیں۔
غزوۂ بنو نضیر میں ہاتھ آنے والے مال اسی قسم میں سے تھے تو آپ نے انصاریوں کے مشورے سے اسے صرف مہاجرین میں تقسیم فرمایا، صرف چند نادار انصاریوں کو اس میں سے حصہ دیا گیا۔3 اللہ پاک نے اس موقع پر سورتِ حشر نازل فرمائی جس میں یہودیوں کے اس واقعے اور مالِ فے کے احکام کو تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔
غزوۂ بدرِ صغریٰ:
غزوۂ اُحد سے جاتے وقت ابوسفیان نے کہا تھا کہ آئندہ سال بدر میں تمہارا اور ہمارا مقابلہ ہوگا۔ اسی لیے جیسے ہی مقرر کردہ وقت قریب آیا تو مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سن چار ہجری(626 عیسوی) میں مدینہ شریف کا نظام حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کےسپرد فرما کر اپنے ساتھ جنگی لشکر لے کر کافروں سے دو دو ہاتھ کرنے کے ارادے سے
1 در مختار، 6 / 218
2 التعریفات ، ص120
3 شرح الزرقانی علی المواہب، 2/ 519 ، 520 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع