30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طبیعتوں میں صاف شفاف انسانی فطرت کے جلوے دکھائی دیتے۔ انہیں بس ایک ایسے راہنما کی ضرورت تھی جو انہیں غلط را ہوں کی بجائے حق کی را ہ کا را ہی بنائے، انہیں ایک ایسے مربی اور مصلح(اصلاح کرنے والے)کی ضرورت تھی جو ان کی خداداد صلاحیتوں کو جانچے اور پھر انہیں نکھار کر ٹھیک جگہ استعمال کرے۔ اللہ نے اپنے آخری نبی، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اسی لیے عرب میں بھیجا کہ وہ یہاں تشریف لاکر اہلِ عرب کے اوصاف کو صحیح راہ دکھائیں اور وہ جو پہلے قدرت کے ان انمول خزانوں کو غلط راہوں میں لُٹا رہے تھے بعد میں انہی کے فیضان سے دنیا کو مالامال کریں۔
عرب سرزمین کو اسلام کا اولین مرکز بنانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے کی معلوم دنیا کے نقشے کو دیکھا جائے تو مکہ شریف و مدینہ پاک تقریباً نظر آتے ہیں، قدرت نے عرب کا محلِ وقوع ایسا بنایا ہے کہ یہ دنیا کے تین برِّ اعظموں یعنی ایشیا، یورپ اور افریقا کے درمیان ہے۔ یوں ہر وہ تحریک اور آوا ز جو عرب سے پیدا ہو ان تینوں برِّ اعظموں تک اس کا پہنچنا نسبتاً آسان و سہل ہے۔اس سے یہ سمجھ آتا ہےکہ پوری دنیا کی ہدایت و راہنمائی کیلئے سب سے مناسب اور بہترین مقام عرب شریف ہی تھا۔1
”لوہے کو لوہا کاٹتا ہے“ یہ مشہور مثال بھی ہے اور ایک ثا بت شدہ حقیقت بھی۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ کسی کو زیر کرنے کیلئے اسی جیسا طاقتور چاہیے ۔ اب ہونا یہی چاہیے تھا کہ وہ اہلِ عرب جو پتھروں سے زیادہ سخت دل تھےاور معمولی باتوں پر خون ریزی اور قتل و غارت گری کرنا جن کا محبوب مشغلہ تھا انہیں زیر کرنے کے لئے ان سے سخت تر کو
1 سیرتِ مصطفیٰ،ص42 -جلوۂ جاناں،1/41 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع