30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسباق و نتائج:
ان دونوں واقعات سے بہت سے سبق ملتے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
(1)بعض روایات کے مطابق رجیع کے چند دن بعد بئر معونہ کا واقعہ ہوا۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم چاہتے تو پہلے واقعے کو بنیاد بنا کر دوسرے سفر کیلئے مبلغین بھیجنے سے انکار کر دیتے۔ لیکن آپ نے عامر بن مالک کے اصرار پر کچھ تحفظات کا اظہار ضرور فرمایا لیکن اس کے یقین دلانے پر آپ نے ستر بہترین صحابہ کو دین کی دعوت و تبلیغ کیلئے روانہ فرمادیا۔ اس میں ہمارے لیے درس ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں دعوتِ دین اور تبلیغِ دین کا کام سب سے اہم ہے۔ مقدور بھر ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کے بعد نتیجہ رب کی ذات پر چھوڑتے ہوئےہمیں بھی ہر حال میں اس اہم ترین کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔
(2)ان واقعات سے یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ دین کی دعوت دینے کا کام محض انبیائے کرام کا نہیں ہے، بلکہ ایمان لانے والے تمام مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت و طاقت کے مطابق دین کی دعوت دینے کےاس عظیم کام میں حصہ ملائیں۔
(3)ایک بات یہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ کافر مسلمانوں کی دشمنی میں اس قدر آگے بڑھے ہوئے تھے کہ اپنے وعدوں سے مکر جاتے تھے اور بد عہدی اور غداری تک میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ جبکہ دوسری طرف مسلمان تھے جو اپنے وعدوں سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام ہی وہ اصل طاقت ہے جو انسان کی طبیعت کو مکمل تبدیل کر کے اسے برائیوں کی گہرائی سے نکال کر اچھائی کی فضاؤں میں پرواز کرنا سکھا دیتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں اسلام کی اسی طاقت کو خود میں بیدار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع