30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہے ہیں اور ان کی چونچوں سے خون کے قطرے گر رہے ہیں تو یہ سمجھ گئے کہ ہمارے ساتھی شہید ہو چکے ہیں۔ 1 یہ جب آئے تو دیکھا کہ صحابۂ کرام کا یہ مختصر قافلہ خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ دونوں صحابی بھی دشمن پر ٹوٹ پڑے، ان میں سے ایک شہید ہو گئے جبکہ حضرت عمرو بن امیہ قید ہوئے، بعد میں انہیں کافر سردار نے اس لیے چھوڑ دیا کہ اس کی ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مانی تھی۔ 2
دو قتل:
حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چل دیئے، راستے میں ایک مقام پر انہوں نے ایک درخت کے سائے میں قبیلہ بنو کلاب کے دو کافروں کو آرام کرتے دیکھا، انہوں نے ان دونوں کو قتل کر دیا اور سمجھے کہ میں نے اپنے ساتھیوں کا بدلہ لے لیا ہے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ ان دونوں کو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم امان عطا فرما چکے تھے، جس کا انہیں علم نہ تھا۔3 جب مدینے پہنچے تو انہوں نے پورا واقعہ حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام کو سنایا، آپ کو اصحابِ بئرِ معونہ کی شہادت سے اتنا صدمہ پہنچا کہ تمام عمر میں ایسا صدمہ نہیں پہنچا تھا۔4 غزوۂ اُحد میں بھی ستر صحابہ شہید ہوئے تھے مگر وہاں آمنے سامنے جنگ میں شہادتیں ہوئی تھیں جبکہ یہاں ستر صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان غداری اور دھوکے بازی سے شہید کیے گئے۔
1 السیرۃ النبویہ لابن ہشام ، ص 376-تفسیرِ بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ:11، 2/15
2 شرح الزرقانی علی المواہب، 2/501-تاریخ ابن عساکر، 26/103، 104 ملخصاً
3 مغازی للواقدی، 1/363
4 شرح الزرقانی علی المواہب، 2/503 تا 508ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع