30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور بنو سلیم کے علاقے حرہ کے درمیان واقع ہے۔ جب سب وہاں اُتر گئے تو انہوں نے حضرت حَرام بن مِلحان کو مکتوبِ گرامی دے کر کافر سردار عامر بن طفیل کی طرف روانہ کیا۔ 1 عامر بن طفیل پہلے آنے والے شخص عامر بن مالک کا بھتیجا تھا، مگر یہ مسلمانوں سے بے حد بغض رکھتا تھا۔ جب عامر بن طفیل کو مکتوب ملا تو اس نے مکتوب پڑھنا بھی گوارا نہ کیا، بلکہ مکتوب لے آنے والے حضرت حرام بن ملحان کو شہیدکروا دیا۔ 2 اُس نے نہ یہ پروا کی کہ قاصِد کومارنا کسی قوم کے نزدیک جائز نہیں اور نہ اِس کالحاظ کیا کہ میرا چچا اِن حضرات کواپنی پناہ دے چکا ہے۔
کافروں کی دھوکہ بازی:
پھر (بقیہ صحابہ کو قتل کرنے کے ارادے سے) عامر بن طفیل نے بنو عامر کو اکسایا کہ وہ اس کی مدد کریں اور مسلمانوں کو قتل کرنے میں اس کا ساتھ دیں مگر انہوں نے اس کے چچا کے امان دینے کی وجہ سے انکار کر دیا۔ پھر اس نے بنو سلیم کے قبائل؛ رِعْل ، ذَکْوان اور عُصَیّہ کی مدد سے صحابہ کی اس مختصر جماعت پر حملہ کردیا اور ان کے خیموں کا گھیراؤ کر لیا۔ مسلمانوں نے ان کفار کو دیکھا تو اپنی تلواریں سونت لیں اور ان سے مقابلہ کیا یہاں تک کہ مَردانہ وار لڑتے ہوئے ہر مجاہد راہِ خدا میں ایک ایک کرکے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے لگا۔3 حضرت عَمرو بن اُمیہ ضَمری اور حضرت مُنذر بن محمد رضی اللہ عنہما بھی اس قافلے میں تھے لیکن اس وقت یہ قافلے والوں کے اونٹ چرانے گئے ہوئے تھے، انہیں بالکل اندازہ نہ ہوا کہ کیا ہوا ہے۔ اچانک ان کی توجہ گئی تو انہوں نے دیکھا کہ آسمان پر بڑے پرندے چکر کاٹ
1 روض الانف، 3/380
2 بخاری، 3/48، حدیث:4091ملخصاً-سیرت مصطفی،ص295ملخصاً
3 السیرۃ النبویہ لابن ہشام ، ص 376
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع