30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبیلے بنو لحیان کے کافروں سے ساز باز کرلی۔ انہوں نے طے کیا کہ مسلمانوں کو گرفتار کر لیتے ہیں، پھر انہیں مکہ کے کافروں کے ہاتھ بیچ دیں گے۔ منافع باہم تقسیم کر لیں گے۔ یوں بنولحیان کے دوسو لٹیروں نے مل کر ان دس مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ کہنے لگے: خود کو ہمارے حوالے کر دو! ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے۔ مسلمان اپنے بچاؤ کیلئے ٹیلے پر چڑھ گئے اور اپنے دفاع میں سنگ باری کرنے لگے، جس سے کافروں کو چھٹی کا دودھ یاد آگیا اور انہیں لگا کہ ہم انہیں گرفتار نہیں کر سکیں گے، یوں انہوں نے ایک چال چلی اور کہا: ہم تمہیں امان دیتے ہیں، اس شرط پر کہ خود کو ہمارے حوالے کر دو۔ اکثر مجاہدین نے ان کی باتوں پر اعتماد نہ کیا اور لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ تین افراد؛ حضرتِ خبیب، حضرتِ زید اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہم کافروں پر اعتماد کرتے ہوئے نیچے آئے تو اُنہوں نے بد عہدی کرتے ہوئے اِنہیں باندھنا شروع کر دیا۔حضرت عبد اللہ ہوشیار ہو گئے اور لڑنا شروع کر دیا، لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ حضرتِ خبیب اور حضرتِ زید باندھے جاچکے تھے اس لیے دونوں مجبور ہو گئے۔ ان دونوں کو کافروں نے مکہ جا کر فروخت کر دیا۔ مکے کے کافروں نے انہیں اس لیے خریدا کہ انہیں قتل کر کے اپنے مقتولین کا بدلہ لے کر انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔ انہوں نے پہلے تماشائیوں کو جمع کیا پھر اِنہیں الگ1 الگ سولی پر چڑھا کر اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا۔ 2
1 حضرتِ خبیب کی شہادت کا واقعہ اتنا دہشت ناک ہے کہ اس کے راوی حضرت سعید بن عامر رضی اللہُ عنہ جب اس منظر کو یاد کرتے تو بےہوش ہو جاتے تھے۔ حضرت عمر نے ایک دفعہ ان سے اس کا سبب پوچھا تو جواب دیا: امیر المؤمنین! یہ بیماری نہیں ہے، جب خبیب کو سولی پر چڑھایا گیا تھا تو میں وہاں موجود تھا، جب وہ منظر یاد آتا ہےتو اس خوف سے میں بےہوش ہو جاتا ہوں کہ پتہ نہیں میرا یہ گناہ معاف ہوگایا نہیں؟ (صفۃ الصفوۃ، 1/338 ، رقم:83 )
2 شرح الزرقانی علی المواہب،2 /492 ، 493 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع