30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مصروفیات ہجرت کے بعد اور زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو آنے والا ہر سال مصروف سے مصروف تر نظر آتا ہے۔ غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں کا دبدبہ بیٹھ گیا تھا، اس لیے مدینہ شریف کے اطراف کے قبیلے کچھ دنوں کیلئے خاموش ہو گئے تھے۔ مگر غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کے جانی نقصان کی جب شہرت ہوئی تو دوسرے قبیلےمسلمانوں اور اسلام کو مٹانے کیلئے پھر سےسرگرم ہو گئے۔ لیکن نبی کریم علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام کی حکمتِ عملی کی بنا پر جلد ہی مسلمانوں کی ہبیت پھر سے بحال ہو گئی۔ لیکن اس دوران انہیں طرح طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی سلسلے میں کئی لڑائیاں اور جنگیں ہوئیں۔ سن چار ہجری کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ”رجیع“ کا واقعہ ہے۔ اسی کی تفصیل یہ ہے:
رجیع کا واقعہ:
غیرمسلم ہمیشہ سے ہی اسلام دشمن رہے ہیں،اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی گھناؤنی سازشوں کا سلسلہ شروع سے جاری ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے عَضَل اور قارَہ کےقبیلوں سے چند آدمی رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا ہے،آپ چند مبلغین ہمارے ساتھ بھیجیں، جو انہیں اسلام کے احکام سکھائیں اور اطراف کے علاقوں میں دین کی تبلیغ بھی کریں تاکہ مزید لوگ اسلام لے آئیں۔ حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام نے دس منتخب صحابہ کو بھیجا، حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو ان کا افسر بنایا۔ جب یہ لوگ مقامِ رجیع پر پہنچے تو کافروں نے ایک اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع