30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے فاصلے پر موجود مقام حمراء الاسد1 پرلشکر نے پڑاؤ ڈال دیا۔ وہاں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی لشکر کے پاس سے گزرا توا س نے آپ کی دل جوئی کی اور ہونے والے نقصان پر افسوس کیا۔ جب وہ آگے گیا تو اس کی ملاقات کافروں کے لشکر سے بھی ہوگئی، انہوں نے اس سے مسلمانوں کے لشکر کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ ان کا لشکر انتقام کی آگ سینوں میں جلائے بڑے جوش اور غضب کے ساتھ تمہارے تعاقب پر ہے۔ اس کی ایسی ہی باتیں سن کر کافر حیران پریشان ہوئے اور مسلمانوں سے لڑائی کے ارمان دل میں رکھے رخصت ہو گئے۔ بعد میں معبد خزاعی نے قاصد بھیج کر رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تک اطلاع بھجوائی کہ کافروں کا لشکر یہاں سے چلا گیا ہے تو مسلمان اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔
غزوۂ غطفان:
اسی سال ربیع الاول کے مہینے میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اطلاع ملی کہ نجد2 سے ایک لشکر مدینہ شریف پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ یوں آپ چارسو صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کے لشکر کے ساتھ مقابلے کیلئے روانہ ہوئے، انہیں جب خبر ملی تو وہ سب کے سب گھر چھوڑ کر پہاڑوں پر نکل گئے۔ مسلمان جب وہاں پہنچے تو اسی دن موسلا دھار بارش ہوئی،
1 یہ مدینہ شریف سے تقریباً 17 کلو میٹر دور ہے، جبکہ بائی روڈ یہ فاصلہ تقریباً 21 کلو میٹر ہے۔ آج کل یہ مقام مدینہ شریف میں انڈسٹریل ایریاز کے آس پاس ہے۔
2 نجد(Najd)عرب کا وسطی حصہ ہے جو مدینے کے علاقوں تک محیط ہے۔مقامِ جنگ نجد کے شہروں النخیل(Al Nkheel)اور الحناکیہ(Al Hanakiyah) کے قریب ہے۔ اول الذکر شہر یہاں سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس جگہ کا مدینہ شریف سے بائی روڈ فاصلہ تقریباً 130 کلو میٹر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع