30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ایک درس یہ ملتا ہے کہ اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے احکام ماننے میں ہی دین و دنیا کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں۔ اگر ان سے انحراف کیا جائے گا تو کامیابیاں منہ موڑ لیں گی اور ناکامیاں مقدر بن جائیں گی۔
غزوۂ حمراء الاسد:
یہ مستقل کوئی غزوہ نہیں ہے بلکہ غزوۂ احد سے ہی اس کا تعلق ہے۔ مشرکین جب مدینہ سے جنگ کر کےواپس جانے لگے تو راستے میں ان کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ کچھ کہنے لگے کہ جب ہم کامیاب ہو گئے تھےتو رسولُ اللہ ( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیے بغیر کیوں واپس جا رہے ہیں؟ جبکہ کچھ کہنے لگے کہ اس وقت مسلمان جوش اورغصے سے بھرے ہوئے ہوں گے، اب اگر ہم نےانہیں چھیڑ دیا تو ان کے چھوٹے بڑے سب میدان میں آ جائیں گے اور ہمیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری یہ (ادھوری) فتح مکمل شکست میں تبدیل ہو جائے اور ہمیں (بدر کی طرح رسوا ہو کر) بھاگنا پڑے۔ بہرحال ان میں سے اکثر کا فیصلہ یہی تھا کہ واپس جا کر پھر سے مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہیے اور ان کو دوبارہ کسی مقابلے کے قابل نہیں چھوڑنا چاہیے۔
رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے دوسرے ہی دن ان کے تعاقب کیلئے جہاد کا اعلان فرما دیا۔ کل ہی مجاہدین زخموں سے چور واپس آئے تھے، ابھی زخم تازے تھےاور خون رس رہا تھالیکن اعلان سنتے ہی سب میدانِ جنگ میں جانے کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ 17شوال 3 ہجری(625عیسوی) کو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قیادت میں مجاہدین کا یہ کارواں مدینہ پاک سے مشرکین کی سرکوبی کیلئے نکلا۔ مدینہ پاک سے آٹھ دس میل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع