30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنگ کے امور میں بھی بے پناہ مہارت رکھتے تھے۔ گویا آپ پہلے سے جان گئے تھےدشمن کی چالیں کیا ہیں اور ان کو کس طرح ناکام کیا جا سکتا ہے۔
(2) جب دشمن واپس پلٹ کر حملہ کرتا ہے اور پورے لشکر میں بےچینی پھیل جاتی ہے، ایسے میں آپ کی شہادت کی افواہ سرگرم ہو جانے کی وجہ سے جب یہ بےچینی عروج کو پہنچ جاتی ہے تب بھی اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں۔ جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے لیڈر، سپہ سالار اور بادشاہ جب دیکھتے ہیں کہ دشمن غلبہ پانے کو ہے تو فوج کو لڑتا چھوڑ کر خود چپکے سے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں لیکن آپ نے کمال استقامت کا مظاہرہ فرمایا۔ بلکہ اپنے پاس موجود دیگر صحابہ کے حوصلے بحال رکھے اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی۔ نیز کس غلام کوکہاں استعمال کرنا موزوں ہے آپ نے اس کا بھرپور مظاہرہ فرمایا اور آخر کار اپنے غلاموں یعنی صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کو جمع فرما لیا۔ ان کے جمع ہونے کے بعد اب تک کے نقصان یا حکم عدولی پر بحث اور زجر وتوبیخ کی بجائے ان کی مدد سے سنبھل کر دشمن کا بہترین مقابلہ فرمایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی ہر ہر صلاحیت میں بے مثل و بے مثال تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ ایک لیڈر کو ہمیشہ آخری دم تک ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
(3)دیکھا جائے تو یہ جنگ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ جنگ کے ابتدائی حصے میں مسلمان اپنے سے چار گنا بڑے لشکر کو دھول چٹاتے ہیں اور دشمن کا تین ہزار کا لشکر سات سو مجاہدینِ اسلام کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ جنگ کے دوسرے حصے میں دیکھا جائے تو پہاڑی پر مقرر چند مجاہدین کی وجہ سے پورے لشکر کو آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ خود رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی کو بھی تکلیف پہنچائی گئی۔ اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع