30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے زخموں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ اشک بار ہو گئے، یہاں تک کہ ہچکی بندھ گئی، پھر آپ نے ان کیلئے دعائے رحمت کی۔1 حضرت حمزہ کا حال دیکھ کر آپ نے ان کی سگی بہن اور اپنی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو وہاں آنے سے منع فرما دیا کہ کہیں اپنے بھائی کی یہ کیفیت دیکھ کر انہیں صدمے سے کچھ ہو نہ جائے۔ انہوں نے عرض کی: میں ضرور صبر کروں گی اور ثواب کی امید رکھوں گی۔2حضرت صفیہ کی یہ کیفیت پوری امت کی خواتین کیلئے درس ہے کہ تکلیفوں پر صبر کیسے کیاجائے۔ اس کے بعد شہدائے کرام کیلئے احد پہاڑ کے دامن میں قبریں کھودی گئیں اور ایک ایک قبر میں دو، دو شہید دفن کئے گئے۔ 3
مدینہ واپسی:
شہدا کی تدفین کے بعد آپ نے دامنِ احد پر کھڑے ہو کر طویل دعا فرمائی اور مدینہ شریف کا رخ فرمایا۔ واپسی پر آپ راستے میں یتیموں کی دلجوئیاں کرتے، بیواؤں کو تسلیاں دیتے، غمزدوں کی ڈھارس بندھاتے اور دکھیاروں کی ہمت بندھاتے مدینہ شریف میں داخل ہوئے۔اس غزوہ میں مجموعی طور پر ستر صحابہ شہید ہوئے۔4 رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی وفات شریف تک شہدائے احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے تھے، ان کیلئے دعائیں فرماتے تھے، آپ کے بعد خلفائے ثلاثہ بھی وہاں حاضری دیتے تھے۔ 5
1 المنتظم، 3 /171
2 المنتظم، 3 /170
3 بخاری، 1 /453، حدیث:1347
4 بخاری، 3 /44، حدیث:4078
5 مصنف عبد الرزاق، 3 / 381، حدیث:6745
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع