30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی زد میں آئے۔ اس عجیب و غریب صورت حال کے باوجود مسلمان ڈٹے ہوئے تھے، وہ کٹ رہے تھے، مر رہے تھے مگر پیٹھ پھیرنے کو تیار نہیں تھے، دشمن اپنی پوری کوشش کے باوجود ان کے قدم اکھاڑنے میں ناکام تھا۔
فریبانہ صدا اور اس کا اثر:
اسی دوران کسی شیطان نے زور کی آواز لگائی کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔1 حالانکہ حقیقت ایسے نہ تھی۔ مجاہدین جو پہلے ہی دشمن کے پلٹنے اور تابڑ توڑ حملوں سے آزمائش میں تھے اس خبر سے شدید صدمے میں چلے گئے۔ خبر سن کر کچھ نے اپنے ساتھیوں کو بلایا اور کہا جب آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی نہ رہے تو اب جینے میں کیا لطف رہ گیا؟ آؤ! میدانِ کارزار میں چلتے ہیں اور دشمن سے لڑتے لڑتے شہادت کی منزل پاتے ہیں۔ کچھ مجاہدوں کا گروہ مدینہ شریف واپس لوٹ گیا۔ ایسے جاں گداز وقت میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے مقام پر ڈٹے رہے،آپ ایک بالشت بھی پیچھے نہ ہٹے۔چند خوش نصیب ایسے تھے جو اس وقت بھی آپ کے ساتھ رہے۔ اسی دوران عبد اﷲ بن قَمِیئَہ بدبخت نے اچانک آپ کو دیکھ لیا۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے صفوں کو چیرتا ہوا آیا اور آپ پر حملہ کر دیا۔ ظالم نے پوری قوت سےرخِ انور پر تلوار ماری جس سے خود(War Helmet) کی دو کڑیاں چہرۂ پُر نور میں چبھ گئیں۔ ایک کافر نے آپ کے نور نور چہرے کا نشانہ لے کر پتھر مارا جس سے سامنے والے ایک دانت مبارک کا تھوڑا سا کنارہ بھی شہید ہوااور ایک مقدس ہونٹ زخمی ہو گیا۔آپ نے بھی اپنے ہاتھوں سے تیر چلائے۔2
1 المغازی للواقدی، ص235
2 تاریخ الخمیس ، 1 / 430
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع