30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طعن سے قریش دوبارہ جمع ہونے لگے۔1 مسلمانوں کو اس کی توقع نہ تھی، ان میں سے ایک تعداد تھی جو فتح یقینی سمجھ کر مبارک بادی، رب کے شکر اور مالِ غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہو گئی تھی۔ چھوٹی پہاڑی پر موجود مسلمانوں نے جب یہ مناظر دیکھے تو انہوں نے وہاں سے ہٹنے کا ارادہ کیا اور اپنے افسر حضرت عبد اللہ بن جبیر سے اس کا اظہار کیا، انہوں نے سختی سے منع کیا۔لیکن ان کی شدید مخالفت کے باوجود مجاہدین کی ایک جماعت پہاڑی سے نیچے آ کر اپنے بھائیوں کا ہاتھ بٹانے لگی۔ 2 جنگ کی افرا تفری میں کسی کی اس طرف توجہ نہ گئی جبکہ ٹیلےپر محض دس مجاہدین رہ گئے تھے جن میں ان کے افسر بھی شامل تھے۔
کافروں کا واپسی حملہ:
لشکرِ کفار کے ایک افسر خالد بن ولید نے ٹیلے پر اس ہلچل کو محسوس کر لیا، اس اہم مورچے کے خالی ہوتے ہی انہوں نے پہاڑ کے پیچھے سے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حملہ کیا اور ٹیلے پر موجود مجاہدین کی مزاحمت کو کچلتے ہوئے ٹیلے پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد انہوں نے لشکرِ اسلام کی پشت سے ان پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔ کافروں کی بھاگتی ہوئی فوج نے اس سے مزید ہمت پکڑی اور پھر سے حملہ کردیا۔ مسلمان بڑے اطمینان سے مالِ غنیمت جمع کر رہے تھے اور پورے میدان میں بکھرے ہوئے تھے، یوں اس ناگہانی حملے سے سنبھل نہ سکے۔اب ہر ایک لڑائی میں مصروف تھا مگر کوئی ترتیب اور صف بندی باقی نہ رہی تھی۔ یوں ایسی ابتری پھیلی کہ اپنے بیگانے کی پہچان ختم ہوگئی، خود مسلمان مسلمانوں کی تلواروں
1 مدارج النبوت، 2 /116
2 تفسیرِ محرر الوجیز، پ4، آلِ عمرٰن، تحت الآیۃ:121 ، 1 /500
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع