30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھ رہے تھے۔ بڑی عقل لڑا کر انہوں نے صف بندی کی کہ اسی پر جنگ کا مدار ہوتا ہے۔جنگ سے پہلے کافروں کی طرف سے چال چلی گئی کہ اوس و خزرج کے پاس پیغام بھجوایا گیا کہ ہماری تم سے کوئی جنگ نہیں۔ تم بیچ سے ہٹ جاؤ! ہم اپنے دشمنوں سے خود ہی نمٹ لیں گے۔ لیکن ان کی یہ چال ناکام ہوئی کہ اوس و خزرج کے عاشقانِ رسول اپنے آقا کا دامنِ رحمت چھوڑنے پر تیارنہیں تھے۔انہیں یقین تھا سب کامیابیاں اسی دامن سے وابستہ رہنے میں ہیں۔
جنگ کا آغاز:
جنگ کی ابتداء کافروں کی طرف سے ہوئی کہ وہی جنگ سے شمعِ اسلام کو بجھانے آئے تھے۔ ابو عامر وہ پہلا شخص تھا جس نے جنگ کا آغاز کیا، مسلمانوں کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اجازت سے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے میدانِ جنگ میں نکلے۔ پہلے چند مقابلے ہوئے اور اس کے بعد عام جنگ شروع ہوئی، جب جنگ کا بازار گرم ہوا تو اللہ کے سپاہی جم کر لڑے اور کشتوں کے پشتے لگا دئیے۔ حضرت ابودُجانہ، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت حمزہ، حضرت علی، حضرت سعد بن معاذ، حضرت مصعب بن عمیر اور عبد اللہ بن حجش رِضوانُ اللہ علیہ م اجمعین سمیت دیگر صحابہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آگے جاں نثاری اور جاں بازی کے ایسے جوہر دکھا رہے تھے جن سے دشمن کی صفوں میں خوف پھیل رہا تھا۔
مسلمانوں کا پلڑا بھاری:
مسلمانوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ حضرت امیر حمزہ نے جامِ شہادت نوش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع