30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باہر آ کر آپ نے کم سِن بچوں کو لشکر سے الگ کیا اور انہیں واپس جانے کاحکم فرمایا۔
مسلمانوں کی جنگی حکمتِ عملی:
آپ نے صف بندی فرماتے ہوئے احد پہاڑ کو پیچھے رکھا تاکہ پشت محفوظ ہو جائے، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت زبیر بن عوام، حضرت امیر حمزہ علیہمُ الرضوان لشکر کے مختلف حصوں کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ وہاں موجود ایک چھوٹی پہاڑی کے پیچھے سے دشمن کے حملہ کرنے کا اندیشہ تھا اس لیے اس پہاڑی پر حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پچاس مجاہدین کو مقرر فرمایا کہ وہ اس جگہ سے نگرانی کریں اور دشمن کو وہاں سے حملہ کرنے سے باز رکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان پچاس مجاہدین سے فرمایا: اِحْمُوْا ظُهُوْرَنَا، فَاِنْ رَاَيْتُمُوْنَا نُقْتَلُ، فَلا تَنْصُرُوْنَا، وَاِنْ رَاَيْتُمُوْنَا قَدْ غَنِمْنَا فَلا تُشْرِكُوْنَا یعنی تم ہماری پشت پر حفاظت کرنااور اگر تم دیکھو کہ (خدانخواستہ) ہمیں قتل کیا جا رہا ہے تب بھی ہماری مدد کو مت آنا! اور اگر تم دیکھو کہ ہم فتح پا کر غنیمت جمع کر رہے ہیں تب بھی ہمارے ساتھ شریک مت ہونا۔1 غیب دان رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرامین سے اندازہ ہو رہا ہےکہ وہ خیالات جو بعد میں مجاہدین کے دلوں میں پیدا ہوئے وہ سب آپ نے پہلے سے بیان فرما کران کی کاٹ کر دی، مگر قدرت کا لکھا ہو کے رہتا ہے اور وہی ہوا جس اندیشے کا اظہار آپ نے فرمایا تھا۔
کافروں کی چال:
کافر چونکہ بدر میں منہ کی کھا چکے تھے اس لیے اب کی بار خاصے محتاط تھے، وہ پہلے کی
1 مسند احمد،4 /368، حدیث:2609
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع