30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقدامات کرنے شروع فرمائے۔ آپ نے دو صحابی بطور جاسوس بھیجے، جنہوں نے یہ خبر دی کہ کافر مدینے کے بہت قریب آ گئے ہیں۔ کافروں کے لشکر کی تعداد کا بھی آپ کو پتہ چل گیا۔ اس کے بعد آپ نے جنگ سے متعلق صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان سے مشورہ فرمایا ۔ آپ نے دفاعی حکمتِ عملی پر مبنی رائے پیش فرمائی کہ مدینے میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ دشمن جب یہاں داخل ہو تو مسلمان اپنی مرضی کی گلیوں میں تیروں اور نیزوں سے ان کا استقبال کریں، گھات لگا کر ان پر حملے کریں، جبکہ مکانوں سے ان پر سنگ باری ہو۔ یوں وہ خود ہی انجام کو پہنچے گا۔ لیکن اکثر صحابہ نے رائے دی کہ باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں اور جہاد و شہادت کے مزے لیتے ہیں۔ ان میں حضرت امیر حمزہ بھی شامل تھے۔ رِضوانُ اللہ علیہم اجمعین آپ نے اکثر کی بات پر فیصلہ فرمایا اور اسی پر عمل ہوا۔ 1
لشکروں کی آمد:
کافروں کے لشکر نے شوال بدھ کے دن میدانِ اُحُد2 میں خیمے گاڑ دیئے جبکہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مسلمانوں کا ایک ہزار کا لشکر لے کر جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے بعد مدینہ سے باہر تشریف لائے۔ عبد اللہ بن ابی منافق جس نے غزوۂ بدر کے بعد اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، وہ اپنے تین سو بندوں کے ساتھ اس لشکر میں شریک تھا، مگر راستے میں بہانہ بنا کر اپنے ساتھیوں کو لیے واپس چلا گیا، یوں باقی سات سو افراد رہ گئے۔3 مدینہ شریف سے
1شرح الزرقانی علی المواہب، 2/391 تا402 ملتقطاً و ملخصاً
2 ''احد'' ایک پہاڑ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل دور ہے۔ چونکہ حق و باطل کا یہ عظیم معرکہ اسی پہاڑ کے دامن میں پیش آیا، اسی لئے یہ لڑائی ''غزوهٔ اُحد'' کے نام سے مشہور ہے۔(معجم البلدان، 1 /95 مفہوما )
3 تاریخ طبری،127 تا129 ملخصاً-عمدۃ القاری، 12 /89
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع