30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا، ابو سفیان اور مکہ کے کافر اس تعاقب سے خائف ہوکر تیزی سے بھاگے کہ اپنے لشکر کے کھانے کیلئے لائی گئی ستو کی بوریاں راستے میں گراتے گئے تاکہ فرار میں آسانی ہو۔ عربی زبان میں ستو کو ”سَوِیْقٌ“ کہتےہیں۔اسی لیے اس غزوہ کا یہی نام پڑ گیا۔1
غزوۂ اُحُد:
سن تین ہجری (625 عیسوی)کے اہم ترین واقعات میں سے ایک غزوۂ احد ہے۔عرب میں قتل کا بدلہ لینے کا رواج صدیوں سے چلا آ رہا تھا۔ قبیلے کے کسی فرد کا قتل اس کے حلیفوں پر گویا جنگ فرض کر دیتا تھا۔ جبکہ بدر میں تو ستر قتل ہو گئے تھے، ان ستر کے انتقام کی آگ کے بجھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مکے کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جہاں کسی کا اپنا قتل نہ ہوا ہو۔ اس وقت اہلیانِ مکہ کے گھروں کا ماحول پڑھ کر آج بھی عقل حیران ہوتی ہے۔ ان کے بڑے بڑے سردار تو اس جنگ میں کام آ گئے تھے تو اب کوئی ایسا عقل مند نہ تھا جو انہیں صبر کی تلقین کرتا یا تحمل کے جام پلاتا۔ پھر اس جنگ میں شکست نے انہیں عزت و وقار کے ساتھ ساتھ ملکِ شام کے تجارتی سفر کی پُرامن راہداری سے بھی تقریباً محروم کر دیا تھا۔ یوں انہیں اپنی معیشت و سیاسی شہرت کا خاتمہ یقینی نظر آ رہا تھا۔ ان سب امور نے انہیں مجبور کر دیا تھاکہ ایک بار پھر ہمت پکڑیں اور انتقام کیلئے آگے بڑھیں۔
کافروں کی جنگی تیاری:
چنانچہ قریش کے چند سردار عکرمہ بن ابوجہل سمیت ابوسفیان کے پاس گئے اور کہا کہ ایک سال ہوگیا ہے غموں سے ہمارے کلیجے پھٹ رہے ہیں ۔ ہر گھر میں ماتم ہو رہا ہے اور ہر گھر
1الکامل فی التاریخ لابن اثیر،2/36ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع