30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتح یاب ہوئے کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عاجزی و انکساری کے پیکر بن کر رب سے فتح و نصرت کی دعائیں مانگ رہےتھے۔
غزوۂ بنو قینقاع:
شوال 2 ہجری میں مدینہ پاک کے ایک یہودی قبیلے بنو قینقاع نے اپنے معاہدے سے غداری کر دی، مسلمانوں سے ان کا معاہدۂ امن موجود تھا، جس کی پاس داری ان پر لازم تھی۔ لیکن برا ہو حسد کا کہ بدر کی فتح نے یہودیوں کے دلوں کو حسدکی آگ میں کباب کر ڈالا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک مسلم خاتون خریداری کیلئے ان یہودیوں کے بازار گئی، تو انہوں نے اس باپردہ خاتون سے بدتمیزی کی، اس خاتون کی چیخ و پکار ایک مسلمان کے کان میں پڑ گئی اور وہ ادھر متوجہ ہوگیا۔ صورت حال واضح ہونے پر مسلمان نے اس بدتمیز یہودی کو آناً فاناً خاک و خون میں نہلا دیا۔ اس کے ساتھی یہودیوں نے حملہ کر کے اس بیچارے کو شہید کر دیا۔ یوں یہودیوں اور مسلمانوں کی آپس میں ٹھن گئی۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے اور یہودیوں کو سمجھایا کہ جنگ سے باز آ جائیں مگر غرور اور حسد کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا اور صلح کی کوئی راہ نہ نکلی۔ جب جنگ شروع ہوئی تو بزدل یہودی دُم دبا کر بھاگے اور قلعے میں پناہ لے لی۔ پندرہ دن کے محاصرے کے بعد انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ عبد اللہ بن ابی منافق کی منت سماجت سے ان کی جان بخشی ہوئی اور طے ہوا کہ تین دن کے اندر یہودی اپنا مال و متاع اور تمام اسلحہ مسلمانوں کے حوالے کر کے مدینہ پاک سے خالی ہاتھ نکل جائیں۔ یوں بنو قینقاع ہمیشہ کیلئے مدینے سے نکال دئیے گئے۔1
1الروض الانف، 3 /224 تا 226 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع