30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے سچی وفا اور عشق و محبت کا جذبہ دل میں ہو تو کمزور اور ناتواں لشکر بڑی بڑی فوجوں کو پچھاڑ سکتے ہیں۔ آج اسی جذبے کو دوبارہ سے پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔
ایک سبق یہ بھی ہے کہ غزوۂ بدر کے اس واقعے میں کئی مقامات پر اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان سے مشورے کئے اور ان کے مشوروں پر عمل کیا۔ بلکہ کئی مقامات پر صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان نے خود آگے بڑھ کر مشورے پیش کئے جنہیں آپ نے قبولیت سے نوازا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیڈر اور قائد کو ہر اہم اقدام اپنے ساتھیوں کے مشورے سے کرنا چاہیے۔ نیز باہمی ماحول بھی ایسا ہونا چاہیے کہ عظیم ترین لیڈر کو بھی اس کے ساتھی بلاجھجک مشورے دے سکیں۔
کئی احادیث سے ثابت ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پہلے سے بشارت عطا فرما دی تھی کہ فتح ہماری ہوگی، آپ نے یہاں تک ارشاد فرما دیاتھا کہ کون سا کافر کہاں مرے گا۔ اس یقین اور ان اطلاعات کے باوجود جب جنگ شروع ہوتی ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ مصروفِ دعا ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ دعا و التجا اور اس میں عاجزی و انکساری یہی وہ مقصد ہے جس کیلئے انسان کی تخلیق کی گئی ہے اور یہ مقصد کبھی بھی فراموش نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ وسائل و اسباب جتنے بھی ہوں، کامیابی اور کامرانی محض رب کی توفیق اور اس کی تائید کے ساتھ خاص ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم رب کے عاجز اور منکسر بندے بن جائیں۔ یہ مقام جب نصیب ہوتا ہے تو بندے کی دعائیں قبولیت کے مراحل طے کر لیتی ہیں۔ کافر اسی لیے رسوا ہوئے کہ وہ متکبر تھے اور سرکشی میں جھومتے ہوئے یہاں آئے تھے جبکہ مسلمان اسی لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع