30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ایک شخص نےداستان سنانے والے کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے حضو ر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کوغم ناک کردیا ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: اسےکچھ نہ کہو! یہ خود پر پڑنے وا لی مصیبت کا علاج پوچھنے آیا ہے۔آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نےاس آدمی سےدوبارہ یہی واقعہ سنا اور اس قدر روئے کہ آنسوؤں سے داڑھی مبارک کے بال تر ہو گئے، پھر آخر میں فرمایا:جاؤ! جاہلیت کے گناہ اللہ پاک نے معاف کر دئیے ہیں۔اب نئے سرے سے عمل کرو۔1
زما نۂ جاہلیت کے رسم و رواج کی ان چند مثالوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ دور بھیانک ہونے کے ساتھ ساتھ سفاکی اور بے رحمی سے بھی بھرپور تھا۔ قرآنِ کریم نے ان حالات کو بڑے ہی جامع انداز میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۱۶۴) 2
ترجمہ: اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
یعنی رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آمد سے پہلے اہلِ عرب جہالت میں گم تھے اور ہدایت سے جہالت اور حیرانی میں مبتلا تھے، ایسے نابینےتھے کہ نیکی کو پہچانتے تھے نہ برائی کو برا مانتے تھے، اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ذریعے انہیں ہدایت عطا فرمائی۔3 ایسے بھیانک اور پُرآشوب دور میں اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے اور اپنے نور سے نہ صرف عرب بلکہ زمین کے گوشے گوشے کو جگمگا کر رکھ دیا۔
1 سنن دارِمی،1/14،حدیث:2
2 پ 4، اٰلِ عمران :164
3تفسیر خازن،پ4،اٰلِ عمران،تحت الآیۃ:164، 1/318، 319
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع