30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے قبضے میں میری جان ہے! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ 1 غور طلب ہے کہ جب کافر مردے سب سن سکتے ہیں تو مردہ مؤمن و مسلمان کیوں نہیں سن سکتے؟ معلوم ہو رہا ہے کہ مؤمنین، اولیا، شہدا اور انبیا بھی وفات کے بعد سب سننے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ طاقت عطا فرمانے والا وہی رب ہے جس نے پہلے بھی انہیں یہ طاقت عطا فرمائی تھی۔ بہرحال نبی کریم کے اس کلام کے بعد اسلامی لشکر رب کی حمد و ثنا کرتا، فتح و کامیابی کا پرچم لہراتا مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ایک مقام پر آپ نے مالِ غنیمت تقسیم فرمایا۔
قیدیوں کا معاملہ:
مدینہ پہنچ کر ستر قیدی آپ کی بارگاہ میں پیش کئے گئے۔ آپ نے انہیں صحابۂ کرام میں تقسیم فرما دیا اور تاکید کی کہ ان کے کھانے، آرام و دیگر ضروریات کا خیال رکھیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ ہونے دی جائے۔ یہی سلوک آپ کی شانِ رحمت کے لائق تھا۔ قیدیوں سے کیا سلوک کیا جائے؟ اس پر آپ نے مشورہ فرمایا۔ حضرت ابوبکر رضی ا للہ عنہ نے مشورہ دیا کہ انہیں فدیہ لے کر آزاد کر دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ سب کوقتل کر دیا جائے، اس طرح کے جو قیدی جس مسلمان کا قریبی بنتا ہے وہی اس کی گردن مارے۔ اور بھی تجاویز آئیں مگر حضرت ابوبکر کی تجویز پر عمل کیا گیا۔ 2
غزوۂ بدر کے اسباق:
غزوۂ بدر کا سب سے پہلا سبق یہی ہے کہ اسلحہ، لشکر کی کثرت اور سامانِ حرب کی فراوانی وغیرہ سب ثانوی چیزیں ہیں۔ اگر اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
1بخاری،3 /11، حدیث:3976
2مسلم،ص750 ،751، حدیث:4588 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع