30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنگ کی روداد:
بدر کے میدان میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تجویز پر ایک بلند ٹیلے پر ایک چھپر1 نما سائبان بنا دیا گیا۔حضور علیہ الصّلوٰۃُوا لسّلام آخر تک وہاں تشریف فرما رہے اور وہیں سے جنگ کی قیادت فرماتے رہے۔ 17 رمضان 2ہجری مطابق 13مارچ 624عیسوی کو جمعہ کے دن آپ نے مجاہدین کی جنگی اصولوں کے تحت صف بندی فرمائی۔عرب کے جنگی اصولوں کے تحت پہلے ہر لشکر سے مشہور بہادر میدان میں اترکر مقابلہ کرتے تھے اور بعد میں حملہ کیا جاتا تھا۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا، عتبہ، اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولید کے ساتھ سامنے آیا اور چیلنج کیا، ان کے مقابلے میں حضرت امیر حمزہ، حضرت عبیدہ اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہم آئے۔ حضرت حمزہ و حضرت علی دونوں خدا کے شیر تھے، پلک جھپکنے میں اپنے حریفوں کو خاک میں ملا دیا، پھر انہوں نے حضرت عبیدہ کی مدد کرتے ہوئے ان کے مقابل کو بھی جہنم رسید کیا۔ حضرت عبیدہ کو شدید زخم آئے۔ انہوں واپسی کے سفر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
دعائیں ہی دعائیں:
حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام چھپر تلے تشریف لے گئے اور مصروفِ دعا ہوگئے۔ کبھی عجز و انکسار کی تصویر بن کر دعائیں کرتے اور کبھی ناز بھرے انداز میں فتح یابی کی دعائیں مانگتے، کبھی نیاز بھرے انداز میں رب کی رحمت طلب کرتے اور کبھی سجدہ کناں ہو کر اسمائے حسنیٰ کی تکرار کرتے۔ یہ سجدے اور ان میں کی گئی دعائیں، یہ اشک باریاں اور ناز و نیاز کی سرگوشیاں دیر تک جاری رہیں، ان میں آپ ایسے محو ہوئے کہ مبارک چادر شانوں سے
1 عربی میں چھپر کو عریش کہتے ہیں۔ آج کل میدانِ بدر میں مسجدعریش ہے، کہا جاتا ہے یہ وہیں پر بنائی گئی ہے جہاں یہ سائبان تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع