30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتی ہیں، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تو قائد و لیڈر ہونے کے ساتھ اللہ پاک کے نبی اور رسول بھی تھے۔ درحقیقت آپ کا یہ فرمان آنے والے تمام قائدین، سپہ سالاروں اور امیروں کیلئے پیغام ہے کہ حقیقی قائد وہی ہوتا ہے جو اپنےادنیٰ کارکن اور سپاہی کے کندھے سے کندھا ملا کر مشکلات برداشت کرے۔ اسی سے قوم میں جذبہ اور جوش پیدا ہوتا ہے۔
قریش کی جاسوسی:
بہرحال جب مسلمانوں کا لشکر بدر پہنچا تو آپ نے چند صحابہ کو حالات معلوم کرنے بھیجا، انہوں نے پانی لے جانے والے دو غلام پکڑے ۔ غلاموں نے کافروں کے حالات بتانے میں پس و پیش کیا تو آپ نے الگ زاویے سے سوالات کیے۔ جن سے معلوم ہوگیا کہ کافروں کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک ہے۔ ان دونوں نے یہ بھی بتا دیا کہ کافروں کے ساتھ کون کون ہے؟ مکہ کے بڑے بڑے مجرموں کے نام سن کر آپ نے صحابۂ کرام سے فرمایا: مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تمہارے سامنے ڈال دیا ہے۔1
موت کی سواریاں:
بدر پہنچ کر کافروں نے بھی اپنی طرف سے عمیر بن وہب(جو بعد میں مسلمان ہوگئے) کو مسلمانوں کےلشکر کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا، ان کے تاثرات یوں تھے: اے گروہِ قریش! میں نے ایسی اونٹنیاں دیکھی ہیں جو موت کو لادے ہوئے ہیں، بخدا میں دیکھ رہا ہوں کہ ان میں سے ایک بندہ بھی اس وقت تک قتل نہیں ہوگا جب تک کہ ایک بندے کو خودقتل نہ کر دے۔ اگر ہم میں سے تین سو بندوں کو بھی انہوں نے تہ تیغ کر دیا تو پھر جینے میں کیا لطف رہے گا۔2
1الروض الانف، 3 /59 ، 60 - سیرتِ حلبیہ، 2 /208
2سبل الہدیٰ و الرشاد،4/31 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع