30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہرحال مدینہ شریف سے ایک میل دور آپ نے لشکر کا جائزہ لیا اور چھوٹے بچوں کو واپس جانے کا حکم فرمایا۔ مزید کچھ ضروری اقدامات فرما کر آپ بدر کے میدان کی طرف چل پڑے۔ اب کُل فوج کی تعداد 313 تھی۔ جن میں 60 مہاجر باقی انصار تھے۔
فضائے بدر پیدا کر!
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ دشمن کی تعداد تین گنا سے بھی زائد ہے، وہ پوری طرح مسلح ہے، اس کے پاس آلاتِ حرب کی فراوانی ہے، ہر طرح کی تیاری کے بعد وہ جنگ کیلئے میدان کا رخ کر رہا ہے جبکہ مقابلے میں آنے والے مجاہدین کی جنگ کی کوئی خاص تیاری نہیں ہے، ان کے پاس پوری تلواریں تک نہیں ہیں، سامانِ جنگ بھی نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن مجاہدین پیچھے ہٹنے کے بجائے دشمن کو دھول چٹانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ جنگی نکتۂ نظر سے دیکھا جائے تو بغیر تیاری اور اسلحے کے اپنے سے تین گنا بڑے دشمن سے ٹکرا جانا بظاہر عقل میں نہیں آتا۔ لیکن جب جنگ ہوئی تو صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان نے عقل و خرد کے یہ سارے شکوک و شبہات مٹی میں ملا دیئے۔ کمزور، ناتواں اور چھوٹا سا لشکر اپنے سے تین گنا بڑی فوج کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور انہیں عبرت ناک شکست کا مزہ چکھاتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کے فیصلے اور ارادے عقل کی بنیاد پر نہیں تھے بلکہ اللہ پاک اور اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سےعشق و محبت کی بنیاد پر تھے۔ وہ بدر کے میدان میں جا پہنچے اور اپنا تن من دھن سب راہِ عشق میں لٹانے کیلئے تیار ہو گئے، ان کے اسی جوش و جذبے کا اثر تھا کہ ان کی مدد کو رب کے فرشتے پہنچے اور ان کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہوئے۔ اس سے درس مل رہا ہے کہ اگر ”فضائے بدر“ پیدا ہو جائے تو رب کی رحمت کے فرشتے قطار در قطارمدد کیلئے نازل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ جوش و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع