30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سردار حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے کا ایسے اظہار کیا: یارسولَ اللہ ! ہم قومِ موسیٰ نہیں جنہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا: تم اور تمہارا رب جا کر لڑو! ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ چلیں اور جنگ کریں! 1 ہم ہر طرف سے آپ کی حفاظت کریں گے اور ہر طرف سے آپ پر اپنی گردنیں بھی قربان کریں گے اور سر بھی کٹائیں گے۔2 پھر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، پہلے انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ ہم انصار کی رائے جاننا چاہتے ہیں؟ ارشاد ہوا: بےشک۔یہ سن کر وہ گویا ہوئے: فَصِلْ حِبَالَ مَنْ شِئْتَ، وَاقْطَعْ حِبَالَ مَنْ شِئْتَ، وَسَالِمْ مَنْ شِئْتَ، وَعَادِ مَنْ شِئْتَ، وَخُذْ مِنْ أَمْوَالِنَا مَا شِئْتَ ”یعنی آپ جس سےچاہیں تعلق رکھیں!جس سے چاہیں تعلق توڑیں! جس سے چاہیں صلح کریں! جس کو چاہیں دشمنوں کی صف میں داخل کریں! ہمارے مالوں میں سے جو چاہیں قبول فرما لیں!“ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر آپ خوب مسکرائے اور بے حد خوش ہوئے۔3 اور فتح کی خوش خبری عطا فرمائی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ انصار و مہاجرین دونوں کو نکلنے کا فرمایا، آپ کی بات پر لبیک کہتے ہوئے مہاجرین و انصار سب تیار ہوگئے۔ انصار چونکہ پہلی دفعہ جا رہے تھے اس لیے انہوں نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ چنانچہ آپ 12 رمضان 2ہجری(624 عیسوی) کو بنا کسی بڑی جنگی تیاری کے چل پڑے، جو جس حال میں تھااسی حال میں روانہ ہو گیا۔ اس لشکر میں مسلمانوں کے پاس نہ زیادہ ہتھیار تھے، نہ فوجی راشن کی کوئی بڑی مقدارتھی کیونکہ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ اس سفر میں کوئی بڑی جنگ ہوگی۔
1السیرۃ النبویۃ لابن کثیر،2/391 ،392 ملتقطاً
2 بخاری،3/5، حدیث:3952
3مصنف ابن ابی شیبہ، 20/302، حدیث:37815 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع