30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قریش کے اس قافلے پر حملہ کر دیں۔ اس طرح ان کی شامی تجارت کا راستہ رک جائے گا اور وہ مجبور ہو کر ہم سے صلح کر لیں گے۔ اس سے پہلے قافلوں پر حملوں کیلئے آپ نے کبھی اعلان نہیں فرمایا تھا، صرف چند منتخب افراد کو روانگی کا حکم فرماتے تھے۔
اہلِ مکہ کو (حضرت)ابوسفیان(جو اس وقت مسلمان نہ تھے انہوں) نے مسلمانوں کے آنے کی خبر پہنچائی، خبر ملتے ہی انہوں نےمسلمانوں کو مزہ چکھانے اور اپنے بندے کا انتقام لینے کیلئے باقاعدہ جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں اور ایک ہزار کی تعداد کا ایسا لشکر لے کر نکلے جس کا ہر سپاہی مسلح تھا۔ فوج کی خوراک کا یہ انتظام تھا کہ قریش کے مالدار لوگ باری باری روزانہ دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے اورپورے لشکر کو کھلاتے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ اس لشکر کا سپہ سالار تھا۔ 1
صحابۂ کرام کا جوش و جذبہ:
کافروں کے جنگ کیلئے آنے کی اطلاع ملی تو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک مجلسِ مشاورت قائم فرمائی۔سب صحابہ جمع ہو گئے تو آپ نے رائے دریافت فرمائی۔ سب سے پہلے حضرت صدیقِ اکبر اور حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے گفتگو فرمائی اور اپنے جذبۂ جاں نثاری کا مظاہرہ کیا۔ دیگر مہاجرین نے بھی بڑے جوش و خروش کا اظہار کیا، مگر آپ کی خواہش تھی کہ انصار صحابہ اپنے جذبات کا اظہار کریں کیونکہ حفاظتِ رسول کا ذمہ اِنہی نے لیا تھا۔ جبکہ انصار اس لیے خاموش تھےکہ مہاجر بھائی ہماری نمائندگی کر رہے ہیں۔ مگر جب آپ نے اس طرف زیادہ توجہ فرمائی تو انصار سمجھ گئے کہ ہم سے کچھ سننا چاہتے ہیں۔ انصار کے ایک معزز
1طبقات ابن سعد،2/8تا13 ملتقطاً و ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع