30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھیجا گیا، اس میں 80 شرکا تھے، جن میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ان کا نشانہ بھی مکہ کا ایک قافلہ تھا،ایک جگہ پر تصادم ہوا مگر بات صرف تیر اندازی تک محدود رہی۔ حضرت سعد کے تیروں کا دشمن کے پاس کوئی جواب نہ تھا، ان کے سارے تیر نشانے پر بیٹھے، کوئی تیر خطا نہ ہوا۔ ہر تیر سے دشمن کا مالی نقصان ہوا یا کوئی زخمی ہوا۔1
غزوۂ ابوا:
شام کی طرف قافلوں کو روکنے کی ایک مہم میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بنفسِ نفیس تشریف لے گئے، اس کو ”غزوۂ ابوا“ کہتے ہیں۔ ساٹھ مہاجرین آپ کے ساتھ تھے، قریش کا کارواں تو بچ نکلا مگر اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ابوا کےباسیوں(بنوضمرہ)سےصلح کا معاہدہ ہوگیا۔ دفاعی نکتۂ نظر سے یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ 2
حضرت عبداللہ بن حجش کا سریۂ نخلہ:
اسی سال ماہِ رجب سن دو ہجری میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر ان کے تحت 8 یا 12 افراد کو روانہ فرمایا۔ آپ نے حضرت عبد اللہ کو ایک بند لفافہ عطا فرمایا، تاکید فرمائی کہ دو دن کے سفر کے بعد اس لفافے کو کھول کر پڑھ لینا اور ہدایات پر عمل کرنا۔ جب خط کھول کر پڑھا تو درج تھا کہ طائف اور مکہ کے درمیان نخلہ میں ٹھہر کر قریش کے قافلوں پر نظر رکھتے ہوئے ہمیں صورتحال کی خبر دیتے رہو۔ یہ لوگ نخلہ پہنچ گئے۔ رجب کی آخری تاریخ کو یہ کارواں نخلہ پہنچا اور اسی دن کافروں کا ایک قافلہ شام سے وہاں پہنچا، قافلہ سامان سے لدا ہوا تھا۔ اس مہم کے امیر حضرت
1البدایہ والنہایہ، 2/ 643ملخصاً- سیرتِ حلبیہ، 3/215 ملخصاً
2شرح الزرقانی علی المواہب، 2/230ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع