30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لڑائیوں کو تاریخِ اسلام میں ”غزوات و سرایا“ کا نام دیا جاتا ہے۔1
غزوہ اور سریہ کا فرق:
وہ چھوٹا یا بڑا جنگی لشکر جس میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بنفسِ نفیس تشریف لے جاتے اسے ”غَزْوَۃ“ کہتے ہیں۔ جبکہ اگر آپ شامل نہ ہوں تو اس جنگی مہم کو ” سَرِیَّۃ “کہتے ہیں۔ 2 امام بخاری کی روایت کے مطابق غزوات کی تعداد 19 ہے۔3 ان میں سے صرف 9 ایسے غزوات ہیں جن میں جنگ کی نوبت پیش آئی جبکہ اکثر ایسےتھے جن میں لڑائی کی ضرورت ہی نہ ہوئی۔جبکہ سرایا کی تعداد 47 ہے۔4
چند سرایا:
رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جوسب سے پہلاسریہ روانہ فرمایا اس میں تیس افراد تھے۔ قیادت اسد اللہ و الرسول حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی۔ اس جنگی مہم کا مقصد کافروں کا تجارتی کارواں تھا جو شام سے مکہ لوٹ رہا تھا۔ اس میں ابوجہل سمیت تین سو شرکا تھے۔ حضرت حمزہ نے انہیں پکڑ لیا اور قریب تھا کہ جنگ شروع ہوجاتی مگر ایک مقامی سردارکی کوششوں سے مفاہمت کی راہ اپنائی گئی اور جنگ نہ ہوئی۔ ابوجہل ضدی اور متکبرانہ طبیعت شخص تھا مگر اس نے مقابلے میں حضرت امیر حمزہ کو دیکھ کر عافیت اسی میں جانی کہ جنگ سے جان چھڑائی جائے۔5 ایک سریہ حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی قیادت میں
1سیرت مصطفیٰ،ص201 ،202
2شرح الزرقانی علی المواہب،2/220 ،221ملخصاً
3بخاری ، 3/3، حدیث : 3949
4شرح الزرقانی علی المواہب، 2/221 بتغیر قلیل
5سیرتِ حلبیہ، 3/214 ،215 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع