30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کی طرف سے جن مسلمانوں سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں مشرکین کے ساتھ جہاد کرنےکی اجازت دے دی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ پاک اِن مسلمانوں کی مدد کرنے پر قادر ہے۔1 اس آیتِ کریمہ کے نازل ہوتے ہی سالوں سے ستائے جا رہے لوگ ستم گروں سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک ماہر والیِ ریاست کی طرح باریک بینی سے حالات کا جائزہ لیا اور ان نتائج تک پہنچے:
1۔ایک یہ کہ اہلِ مکہ تب ہی شرارتوں سے باز آ سکتے ہیں جب ان کی تجارت کا را ستہ بند کر دیا جائے۔ راستہ بند ہوتے ہی وہ مجبور ہو کر صلح پر آمادہ ہوں گے۔
2۔دوسرا یہ کہ جتنا ہو سکے مدینہ پاک کےگرد موجود قبیلوں سے تعلقات بڑھائے جائیں، ان سے صلح کے معاہدے کئے جائیں اور انہیں اپنا حلیف بنایا جائے تاکہ کافر مدینہ پر حملہ کی جرأت نہ کر سکیں۔
انہی وجوہات کی بنا پر آپ نے یکے بعد دیگرے چھوٹے لشکر ترتیب دیئے، ان کی ذمہ داری تھی کہ کافروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور مکہ و شام کے درمیان قریش کے قافلوں پر حملے کریں اور انہیں ڈرائیں۔ تاکہ یہ راستہ ان کیلئے غیر محفوظ ہو جائے۔ دوسرا یہی لشکر اطراف کے قبائل سے رابطہ کرتے اور ان سے صلح کے معاہدے بھی کرتے۔ اس کام کیلئے بعض اوقات آپ خود بھی تشریف لے جاتے تھے۔ اسی سلسلہ میں کفارِ مکہ اور ان کے اتحادیوں سے مسلمانوں کا ٹکراؤ شروع ہوا اور چھوٹی بڑی لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہی
1تفسیر روح البیان،پ17، الحج، تحت الآیۃ:39 ، 6 / 38ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع