30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی دوران مکہ والوں نے مدینہ کے ایک بااثر سردار عبد اللہ بن اُبی اور اوس و خزرج کےمشرکین کو خط لکھا،جس میں تھا: اِنَّكُمْ آوَيْتُمْ صَاحِبَنَا، وَاِنَّا نُقْسِمُ بِالله لَتُقَاتِلُنَّهٗ، اَوْ لَتُخْرِجُنَّهٗ اَوْ لَنَسِيرَنَّ اِلَيْكُمْ بِاَجْمَعِنَا حَتَّى نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَكُمْ، وَنَسْتَبِيْحَ نِسَاءَكُمْ یعنی تم نے ہمارے بندے کو پناہ دے دی ہے، ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تمہیں اس کے ساتھ جنگ کرنا پڑے گی یا پھر تمہیں اسے مدینے سے نکالنا پڑے گا۔ ورنہ ہم سب مل کر تم پر حملہ کر دیں گے اور تمہارے مَردوں کو قتل کر کے تمہاری عورتوں کو اپنے استعمال میں لائیں گے۔ اس خط سے عبد اللہ بن ابی اور اس کے دوستوں نے مسلمانوں سے لڑنے کا فیصلہ کر لیا مگر رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں سمجھایا تو وہ لڑائی سے باز آ گئے۔1
اذنِ جہاد:
جب مکہ والوں کایہ حربہ ناکام ہوا تو انہوں نے مسلمانوں کو پریشان کرنے کیلئے یہ حکمتِ عملی اپنائی کہ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بھیجتے جو مدینہ پاک اور اس کے اطراف میں آ کر لوٹ مار مچا کر بھاگ جاتیں۔ اس وقت تک جہادکی اجازت نہیں تھی تو اس لیےمسلمان مدینہ سے باہر نکل کر حملہ نہیں کرتے تھے۔ آخر کار مسلمانوں کو جہادکی اجازت دی گئی۔ اس وقت یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙﰳ (۳۹)(پ:17، الحج:39)
ترجمہ کنز العرفان:جن سےلڑائی کی جاتی ہے انہیں اجازت دے دی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔
یہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔اس
1ابوداؤد،3 /212 ،حدیث:3004ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع