30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجد کو مسجدِقبلتین1 کہتے ہیں۔ تحویلِ قبلہ سے یہودیوں اور منافقین کے گروہ کو بہت تکلیف ہوئی۔2
مکہ والوں کی دھمکیاں:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تیرہ سال نبوت کی تبلیغ کرتے ہوئے اہلِ مکہ کے درمیان رہے۔ مگر ان کی اکثریت آپ پر ایمان نہ لائی بلکہ آپ کی دشمن ہوگئی۔ اب جبکہ آپ اپنے اصحاب سمیت مکہ سے سینکڑوں میل دور جا چکے تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ مکہ والے آپ کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے اور اطمینان کے ساتھ بیٹھتے۔ لیکن اہلِ مکہ نے اپنی روش نہ بدلی، مدینہ پاک میں آ جانے کے باوجود وہ مسلمانوں کو ستانے اور پریشان کرنےکی کوششوں میں لگے رہے۔ اسی زمانے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مکے میں عمرے کیلئے گئے، امیہ بن خلف کے ساتھ پرانی دوستی تھی، یوں اسی کے پاس رہے۔ ایک دن طواف کیلئے جاتے ہوئے ابوجہل سے سامنا ہو گیا۔ اس نے امیہ سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اس نے تعارف کروایا تو ابوجہل نے غصے میں کہا: تم لوگوں نے مسلمانوں کو پناہ دے رکھی ہے اور الٹا یہاں آکر طواف کرتے ہو، اگر تم امیہ کے ساتھ نہ ہوتے تو زندہ بچ کر نہ جاتے۔ اس پر حضرت سعد نے فرمایا: اگر تم ہمیں حج و عمرے سے منع کرو گے تو ہم تمہارا مدینے والا راستہ بند کر دیں گے جس سے تم شام جا کر تجارت کرتے ہو۔ یہ سنتے ہی اس کے اوسان خطا ہو گئے۔3
1مسجدقبلتین مدینہ شریف میں شمال مغرب کی طرف واقع ہے۔ مسجد نبوی سے اس کا فاصلہ تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر جبکہ بائی روڈ فاصلہ تقریباً سات کلو میٹر ہے۔ اب اس میں قدس کی طرف والی محراب تو نہیں ہے البتہ اس کی نشان دہی موجود ہے۔
2 مدارج النبوت ، 2/73ملخصاً
3بخاری، 3 / 4، حدیث:3950ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع