30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ ولیمہ فرمائی۔1
قبلے کی تبدیلی:
سن دو ہجری میں تحویلِ قبلہ ( قبلےکی تبدیلی) کا واقعہ ہوا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو بیت المقدس2 کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ یہی اس وقت اہلِ کتاب کا قبلہ تھا۔ غالباً اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ مشرکین کی بنسبت اہلِ کتاب کی تعلیمات میں کہیں نہ کہیں وحی کا نور موجود تھا۔ ہوسکتا ہے یہ حکمت بھی رہی ہو کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے میں اہلِ کتاب مانوس ہوں اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے۔ بہرحال اسی طرح نماز پڑھتے پڑھتے سترہ ماہ گزر گئے، اب حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام کی خواہش تھی کہ آپ کے غلاموں کا قبلہ بھی بیت اللہ شریف قراردیا جائے۔ چنانچہ ایک دن قبیلۂ بنی سلمہ کی مسجد میں نمازِ ظہر پڑھا رہے تھے کہ حالتِ نماز ہی میں یہ وحی نازل ہوئی :
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-
(پ2،البقرہ :144)
ترجمہ کنز الایمان : ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہےابھی اپنا منہ پھیر دو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف۔
رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دورانِ نماز ہی اپنا چہرہ بیت المقدس سے پھیر کر خانۂ کعبہ کی طرف کر لیا اور تمام نمازیوں نے بھی آپ کی پیروی کی۔ جہاں یہ واقعہ پیش آیا اس
1مدارج النبوت، 2/ 70 ملخصاً
2بیت المقدس کو القدس بھی کہتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ مدینہ شریف سے بیت المقدس کا بائی روڈ فاصلہ تقریباً 1215 کلومیٹر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع