30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسلام کی دوسری مسجد:
جہاں اونٹنی بیٹھی اس کے پاس کی جگہ پر کھجور کے درخت، کچھ مشرکوں کی قبریں اور گھڑے تھے۔ معلومات پر پتہ چلا کہ یہ دو یتیم بچوں(سہل اور سہیل) کی زمین ہے، آپ نے انہیں بلایا اور مسجد بنانے کیلئے جگہ خریدنے کی پیش کش فرمائی، انہوں نے تحفتاً زمین پیش کرنےکی کوشش کی، مگر یتیموں کے حقوق کے محافظ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کی زمین بلا قیمت لینا منظور نہ فرمائی اور حضرت ابوبکر کے مال سے ان کو معاوضہ ادا فرمایا۔ پھر اسی جگہ درختوں کو کاٹ کر، قبروں کو ختم کرکے اور گڑھوں کو بھر کر مسجدِ نبوی کی بنیاد رکھی گئی1 اور یہیں کا ایک حصہ زمین پر جنت کا ٹکڑا قرار دیا گیا۔
حجروں کی تعمیر:
مسجد کی تعمیر کے ساتھ آپ کی ازواج کیلئے حجرے بھی تیار کئے گئے۔ یہ حجرے حسبِ ضرورت تعمیر ہوتے رہے، پہلے ہجری سال میں دو حجرے تعمیر ہوئے۔ مسجد شریف اور حجرے سادگی کا نمونہ تھے؛ فرش مٹی کا، دیواریں پتھروں کی جن پر مٹی کا لیپ، جبکہ چھت کھجور کے پتوں کی، تنوں میں کھجور کے شہتیر استعمال ہوئے۔2 یوں یہ حجرے ظاہری اعتبار سے بڑے سادہ تھے مگر عظمت و برکت کے اعتبار سے روئے زمین پر سب سے زیادہ بابرکت و پر رونق تھے۔
مسجد کی اہمیت اور چبوترۂ صفہ:
مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مدینہ پاک میں مسجد پہلے تعمیر فرمائی اور
1بخاری ، 2/594، حدیث:3906ملخصاً-طبقات ابن سعد،1/184
2بخاری ، 1/165 ، حدیث : 428 - طبقات ابن سعد،1/185ماخوذاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع