30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آدمی اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا۔یہ غلام زیادہ تر افریقہ کے حبشی ہوتے تھے جبکہ سفید رنگ کے غلام عراقی اور شامی علاقوں کے بازاروں سے لائے جاتے تھے۔ انسان جس طرح اپنے مال کو استعمال کرتا ہے ایسے ہی ان غلاموں کو استعمال کرتا تھا، جاہلیت کے قانون میں غلام کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ کسی بھی حال میں اپنی رائے کا اظہار کرے کیونکہ وہ ملکیت کے سامان اور جانوروں کی طرح تھا، اگرچہ وہ انسان تھا، اگرچہ اس میں روح تھی، اگرچہ اس کے پاس عقل تھی،اگرچہ اس کے پاس شعور تھا۔یوں صرف غلام ہونے کی وجہ سے اس میں اور جانوروں میں کچھ خاص فرق نہ تھا۔
زما نۂ جاہلیت اور بیٹیاں:
اپنی اولاد کسے پیاری نہیں ہوتی! انسان کیا ،چرند، پرند، حیوانات یہاں تک کہ خونخوار جانور تک اپنی چھوٹی اولاد سے محبت کرتے ہیں۔ اولاد کا غم بےزبان جانوروں کی آنکھوں کو بھی نم کر دیتا ہے۔ اسی طرح بچے جیسے بھی ہوں اور جس کے بھی ہوں ہر نرم دل ان کی طرف کھنچتا ہے، لیکن دورِ جاہلیت میں عرب کےبعض لوگ جہالت، سفاکیت اوربے رحمی میں جانوروں سے بھی بڑھ گئے تھے، ان کی سنگ دلی کا عالم یہ تھا کہ اپنی سگی بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، جس کی بڑی وجہ جاہلانہ شرم اور غیرت تھی۔ اس تاریک دور میں لڑکی والدین کیلئے ذلت کا سبب سمجھی جاتی تھی، لڑکی کی پیدائش اس وقت کے لوگوں کو غم زدہ کر دیتی، وہ شرم کے مارے منہ چھپائے پھرتے، جب کچھ سجھائی نہ دیتا تو اپنے ہاتھوں سگی بیٹیوں کو زندہ دفن کر کے سینہ تان کے اپنی شرمندگی کا خاتمہ کرتے۔ تفسیر خازن میں ہے: زما نۂ جاہلیت میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع